جدید طریقوں سے سرخ مرچیں سکھانے کے لیے سندھ کے کسان حکومتی سرپرستی کے منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

تیکھی سرخ مرچوں کی کاشت کے لیے مشہور صوبہ سندھ میں کاشتکار اپنی پیداوار کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے انہیں غیر روایتی جدید طریقوں سے خشک کرنے کے لیے حکومتی مدد کے منتظر ہیں۔

عمر کوٹ میں کاشتکاروں کا ایک منتخب گروپ مرچوں کی پیداوار کو خشک کرنے کے دوران پھپھوندی لگنے کے مسئلے اور آلودگی سے بچانے کے لیے درآمد کی گئی جدید مشینوں کا آزمائشی بنیادوں پر کامیابی سے استعمال کر رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان میں مرچوں کی کاشت اور روایتی انداز سے پیدوار کو خشک کرنے کے عمل پر منفی اثر پڑا ہے۔ موسمی تبدیلیوں میں وقت گزرنے کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے اور اب پاکستان اس رجحان سے متاثرہ اولین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

مرچ کی فصل ملک کے زرعی شعبہ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ عالمی سطح پر پیداوار کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے پہلے پانچ ممالک میں شامل ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 150,000 ایکڑ رقبے پر مرچ کی کاشت ہوتی ہے۔ اس کی سالانہ پیداوار 143,000 ٹن تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں مرچوں کی پیداوار میں چوتھا بڑا ملک بن جاتا ہے۔ صوبہ سندھ کا ملک کی کل مرچ کی پیداوار میں تقریباً 88 فیصد حصہ ہے۔

تاہم پچھلے سال پھر شدید بارشوں کے باعث دریائوں اور ندی نالوں میں سیلاب نے تباہی مچا دی ۔ اس طرح پہلے بلند درجہ حرارت اور پھر بارشوں اور سیلابی صورتحال سے مرچ کی پیداوار پر منفی اثر پڑا۔ مقامی کاشتکاروں اور زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید موسمی حالات زراعت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، جو کہ خطے میں موسمی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی طرف واضح اشارہ ہے۔

13 نومبر 2023 کو لی گئی اس تصویر میں، ایک تحقیقی مرکز کے پرنسپل سائنسی افسر، ڈاکٹر محمد صدیق دیپر، پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں خشک سرخ مرچوں کو خشک کرنے والی مشین کا استعمال کرتے ہوئے دکھا رہے ہیں۔ (ذوالفقار کنبھر کی ایک تصویر)
13 نومبر 2023 کو لی گئی اس تصویر میں، ایک تحقیقی مرکز کے پرنسپل سائنسی افسر، ڈاکٹر محمد صدیق دیپر، پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں خشک سرخ مرچوں کو خشک کرنے والی مشین کا استعمال کرتے ہوئے دکھا رہے ہیں۔ (ذوالفقار کنبھر کی ایک تصویر)

حالیہ برسوں میں مرچ کی پیداوار کو پھوندی کے پھیلاؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، افلاٹوکسین ایک زہریلی پھپھوندی ہے جو مرچوں کی پیداوار، کٹائی، ذخیرہ کرنے یا پروسیسنگ کے دوران فصلوں میں پھیلتا ہے- موسمی تبدیلیوں کے باعث یہ مسئلہ اب سندھ میں مرچ کی فصلوں کو ذیادہ متاثر کر رہا ہے۔

عمر کوٹ، سندھ میں واقع بارانی علاقے میں کھیتی باڑی پر تحقیق کے حکومتی ادارے، ایرڈ زون ریسرچ سینٹر (AZRC) کے پرنسپل سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر محمد صدیق دیپر موسمی تبدیلیوں کے مرچ کی پیداوار پر اثرات کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرچوں کو روایتی طریقوں سے دو ہفتوں تک کھلی فضا میں پھیلا کر خشک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن دن کے وقت غیر متوقع طور پر بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور رات کے وقت اوس سے افلاٹوکسن کی افزائش کے لیے سازگار حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ خشک کرنے کے عمل کے دوران دھول سے بھی پیداوار کا معیار متاثر ہوتا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں 13 نومبر 2023 کو مزدور سرخ مرچیں خشک کرنے کے لیے پھیلا رہا ہے۔ (ذوالفقار کنبھر کی طرف سے ایک تصویر)
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں 13 نومبر 2023 کو مزدور سرخ مرچیں خشک کرنے کے لیے پھیلا رہا ہے۔ (ذوالفقار کنبھر کی طرف سے ایک تصویر)

ان مسائل سے نبٹنے کے لیے پچھلے تین سالوں سے بارانی علاقے میں کھیتی باڑی پر تحقیق کے حکومتی ادارے کے سائنسدان ایک منصوبے پر کام رہا ہے۔ جس کے تحت غیر ملکی عطیہ کردہ سرخ مرچ خشک کرنے والی مشین، شمسی سرنگ، مرچ ڈی ہائیڈریٹر خشک کرنے اور واشنگ مشین کی تنصیب شامل ہے۔ محمد صدیق نے بتایا کہ افلاٹوکسن اور آلودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے انکے ادارے نے بارہ منتخب کاشتکاروں کے استعمال کے لیے ان جدید مشینوں سے کام لینے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کھلی ہوا میں سرخ مرچوں کو دو ہفتوں کے لیے خشک کرنے کے مقابلے میں شمسی سرنگ کے اندر پیداوار کو چار دن اور ڈرائر سے تیس گھنٹے کے اندر صاف ستھرے ماحول میں خشک کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جدید طریقے مرچ کی فصل کو دھول سے بھی بچاتے ہیں جو پیداوار کے معیار میں کمی کی ایک بنیادی وجہ ہے۔

13 نومبر 2023 کو لی گئی اس تصویر میں، کسان جاوید راجر پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں مقامی مرچوں کی نمائش کر رہے ہیں۔ (ذوالفقار کنبھر کی ایک تصویر)
13 نومبر 2023 کو لی گئی اس تصویر میں، کسان جاوید راجر پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں مقامی مرچوں کی نمائش کر رہے ہیں۔ (ذوالفقار کنبھر کی ایک تصویر)

حکومتی سائنسدان کے مطابق علاقے کے منتخب کاشتکاروں نے مرچوں کو خشک کرنے کے لیے ان سہولیات کو کامیابی سے استعمال کرکے کھلے آسمان تلے خشک کرنے کے مقابلے میں بہتر نتائج حاصل کیے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک کامیاب تجربہ ثابت ہوا ہے۔

لیکن مشینیں علاقے کے کسانوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ کوریا کے پروگرام برائے زرعی ٹیکنالوجی کی طرف سے عمر کوٹ کے تحقیقی مرکز کو چار سرخ مرچ ڈرائر یونٹ اور دو مرچ دھونے والے یونٹ عطیہ کیے گئے ہیں۔

مرچ خشک کرنے والے یونٹوں کی کل صلاحیت 20 من، یا تقریباً 800 کلوگرام ہے۔ اس کے علاوہ ایک سولر ٹنل اور ایک سولر کم گیس ڈرائر پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے منصوبہ کے تحت نصب کیا گیا ہے۔

اب، عمرکوٹ کے مرچ کے کاشتکار چاہتے ہیں کہ حکومت سرخ مرچوں کو آلودگی سے بچانے کے لیے نئے طریقے اپنانے میں انکا ہاتھ بٹائے۔ کاشتکار جاوید راجر نے عرب نیوز کو بتایا، انہوں نے عمر کوٹ کے تحقیقی مرکز کی مدد سے سرخ مرچوں کو خشک کرنے کی سہولیات سے فائدہ اٹھایا جس سے نہ صرف انکا وقت بچا بلکہ پیداوار کا معیار بھی بہت بہتر ریا تاہم، انکا کہنا تھا کہ وہ اب بھی اپنی مرچ کی پیداوار کو سکھانے کے لئے روایتی طریقوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ AZRC کے پاس انکی تمام پیداوار کو خشک کرنے کی صلاحیت کی حامل مشینری نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر کام کرنے کے لیے یہ مشینیں کافی نہیں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی استعداد کار بڑھائی جائے. یا کاشتکاروں کو یہ مشینیں کم قیمت پر آسان اقساط میں دی جائیں۔

انہوں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ علاقے کی مشہور لنگی مرچ کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔ کاشتکار نے کہا کہ لنگی مرچ دنیا بھر میں اپنے منفرد تیکھے ذائقے کے لیے مشہور ہے۔ تاہم، ماحولیاتی تبدیلیاں ایک طرف اس کی پیداوار میں کمی کا باعث بن رہی ہیں اور دوسری طرف اس کی جگہ ہائبرڈ اقسام لے رہی ہیں۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حکومت کو مقامی کسانوں کی مدد اور لونگی کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر مرچ خشک کرنے والے یونٹس قائم کرنے پر فوری طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سرکاری اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی خشک سرخ مرچ کی برآمدات میں کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ افلاٹوکسن پھپھوندی پر نہ قابو پاناہے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے مطابق، پاکستان نے 2019 میں 2,751 میٹرک ٹن خشک سرخ مرچیں برآمد کیں، جو 2022 میں کم ہو کر 1,665 میٹرک ٹن رہ گئیں۔

13 نومبر 2023 کو لی گئی یہ تصویر پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے ایک فارم میں مقامی سرخ مرچوں کو دکھاتی ہے۔ (ذوالفقار کنبھر کی ایک تصویر)
13 نومبر 2023 کو لی گئی یہ تصویر پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے ایک فارم میں مقامی سرخ مرچوں کو دکھاتی ہے۔ (ذوالفقار کنبھر کی ایک تصویر)

ٹی ڈیپ کے زراعت اور خوراک کے مشیر ڈاکٹر مبارک احمد نے عرب نیوز کو بتایا کہ جدید تکنیکوں کا استعمال افلاٹوکسن اور کیڑے مار ادویات کی باقیات کے مسائل کو حل کر کے درآمد کرنے والے ممالک کی غذائی تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے اور خاص طور پر فائٹو سینیٹری کا انتظام کرنے میں مدد کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی ڈیپ سرخ مرچ خشک کرنے والے مزید یونٹس تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ مقامی کسانوں کی مدد کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں