فوری ترسیلات زر کے لیے پاکستان کے آن لائن نظام کو خلیجی ممالک سے منسلک کرنے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے بینکوں کے ذریعے فوری ادائیگی کے نظام [راست] کو اگلے آٹھ ماہ میں عرب مانیٹری فنڈ (اے ایم ایف) کے رکن ممالک کے سرحد پار ادائیگی کے نظام، بونا (Buna) کے ساتھ مربوط کر دیا جائے گا۔

مرکزی بنک کے گورنر جمیل احمد نے عرب نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ اس پیش رفت سے پاکستان اور خلیجی خطے سمیت دوسرے ممالک کے درمیان فوری بنیادوں پر ترسیلات زر کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔

یاد رہے کہ اس تکنیکی سنگ میل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اس ماہ کے اوائل میں، اے ایم ایف اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان ابوظبی میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس کا مقصد عرب ریجنل پیمنٹس کلیئرنگ اینڈ سیٹلمنٹ آرگنائزیشن (ARPCSO) کے تحت قائم بونا اور سٹیٹ بنک آف پاکستان کے متعارف کروائے گئے [راست] کے ادائیگی کے نظام کے درمیان تعاون کا ایک فریم ورک تشکیل دینا ہے جسے خطے کے تمام مرکزی بنکوں کی حمایت حاصل ہو گی۔

گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کراچی میں آٹھویں پاکستان بینکنگ ایوارڈز کے موقع پر عرب نیوز کو بتایا کہ راست اور بونا کے ادائیگی کے نظام کے انضمام کو چھ سے آٹھ ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بونا کے راست کے ساتھ انضمام کا مقصد خلیجی خطے اور پاکستان کے درمیان باضابطہ چینلز کے ذریعے سرحد پار ترسیلات زر کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف فوری، محفوظ اور کم لاگت سرحد پار ادائیگیاں ممکن ہوں گی بلکہ عرب ممالک اور پاکستان کے درمیان اقتصادی، مالیاتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ کاروباری اداروں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

جمیل احمد کے مطابق اس انضمام کا سب سے بڑا فائدہ عرب مانیٹری فنڈ کے کسی بھی رکن ملک سے فنڈز کی فوری منتقلی ممکن ہو گی جب کہ یہ ایک کم خرچ ذریعہ بھی ثابت ہو گا۔ ان دو اہم فوائد سمیت ترسیل زر کے اس بہتر طریقے کے دیگر فوائد بھی ہوں گے جیسے کہ فنڈز کی محفوظ ترسیل۔

ادائیگی کے اس طریقہ کار سے خلیجی خطے میں مقیم پاکستانی کارکن خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں رہنے والے افراد فائدہ اٹھا سکیں گے۔

واضح رہے کہ خطہ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سب سے ذیادہ یعنی 77 فیصد پاکستانی تارکین وطن کو روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ اگلے پانچ سالوں کے لیے مرکزی بینک نے ’وژن 2028‘ کے نام سے ایک سٹریٹجک منصوبہ بنایا ہے، جس سے مالی استحکام کو فروغ دینے میں مددگار ملے گی۔ انہوں نے درپیش چیلینجز کے حوالے سے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے جڑے خطرات مالیاتی شعبے خاص طور پر قرضوں، سرمایہ کاری اور انشورنس جیسی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اسی طرح سائبر سکیورٹی ایک اور ابھرتا ہوا چیلنج ہے جو مالی استحکام اور پائیدار بنیادوں پر مالی شمولیت کے حصول کے لیے ہماری کوششوں کے ضمن میں ایک اہم خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں مالیاتی اداروں پر سائبر حملوں کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ پیچیدہ تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ مالی اداروں کی ساکھ کو نقصان اور عملی مشکلات بھی بڑھ سکتی ہیں۔

سٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنے ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے، نگرانی کے نظام کی مزید بہتری اور مالی استحکام کا کلچر اپنانے کی خاطر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اہداف کے حصول کے لئے مرکزی بینک، بینکنگ کے شعبہ سمیت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی جانب سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہو گی۔

معیشت میں بہتری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.8 فیصد سے کم ہو کر 0.8 فیصد پر آ گیا ہے۔

اس پیش رفت کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایسی سطح پر آ سکتا ہے جہاں اسے نسبتاََ آسانی سے قابو میں رکھنا ممکن ہو گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.5 فیصد سے زیادہ نہیں بڑھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں