پاک -افغان سرحدی کشیدگی سے قندھاری انار کی تجارت بری طرح متاثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

کوئٹہ میں 42 سالہ سید احمد بانس سے بنی چھت کے نیچے اپنی دکان میں چمکدار سرخ اناروں کو ترتیب دے رہے ہیں۔جنوب مغربی پاکستان میں بلوچستان کے دارا لحکومت کوئٹہ کے دل میں واقع اپنی دکان پر ان خاص پھلوں کی کشش سے گاہک کھنچے چلے آ رہے ہیں۔ افغانستان سے درآمد کیے جانے والے ان اناروں کو پاکستان میں ایک اہم موسمی پھل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی سے اس کی تجارت خطرے سے دوچار ہو گئی ہے اور ان پھلوں کے پاکستانی تاجر سرحد پر پھنسی ہوئی کھیپ سے پریشان ہیں۔

مقامی طور پر قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں۔ اس پھل کی دیگر تمام اقسام سے افضل سمجھے جانے والے سرخ انار کو اس کے منفرد ذائقے اور غذائی تاثیر کی وجہ سے جنت کے پھل سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں: فوٹو عرب نیوز
قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں: فوٹو عرب نیوز

تاہم، افغانستان کے ارغنداب، بالا جار اور پروان کے علاقوں سے ان گراں قیمت پھلوں کی درآمد پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی تناؤ کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے اور مقامی تاجر خاص طور پر صوبہ بلوچستان میں اپنی درآمدی کھیپوں کے حصول کے لئے پریشان نظر آتے ہیں۔

کوئٹہ کے پشین اسٹاپ کے علاقے میں پھلوں کی دکان چلانے والے سید احمد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ہم اس وقت انار کے موسم کے تقریباََ وسط میں ہیں جو دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا۔ لیکن چمن بارڈر پر حالیہ پاک افغان تجارتی بندش کی وجہ سے انار کی بہت بڑی درآمدی کھیپ اسپن بولدک بارڈر کراسنگ پر پھنسی ہوئی ہے جس کے باعث تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو چکی ہیں۔

قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں: فوٹو عرب نیوز
قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں: فوٹو عرب نیوز

وہ اپنی 30 ٹن انار کی درآمدی کھیپ کے بارے میں بہت فکر مند ہیں جو افغانستان کے صوبہ قندھار کے علاقے ارغنداب سے منگوایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مجھے انہیں یہ آرڈر بروقت نہ ملا تو یہ منزل پر پہنچنے سے پہلے خراب ہو جائے گا جس سے انہیں سیزن میں شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گزشتہ دو سالوں کے دوران، دونوں ممالک کے سرحدی فوجیوں کے درمیان ہلاکت خیز جھڑپیں ہوئیں اور ردعمل کے طور پر شمال مغربی اور جنوب مغربی سرحدی گزر گاہیں کئی بار بندش کا شکار ہوئی ہیں۔ اس کے باعث دونوں پڑوسیوں کے درمیان تعلقات اس وقت سرد مہری کا شکار ہیں۔ پاکستان نے گذشتہ ماہ تمام غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، جن میں زیادہ تر افغان باشندے شامل ہیں، کو یکم نومبر تک ملک چھوڑنے کے لیے کہا تھا، اور تمام سرحدی ٹرمینلز پر سخت ویزا نظام کے نفاذ کے لیے اقدامات اٹھائے تھے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید بگڑ گئے۔

قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں: فوٹو عرب نیوز
قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں: فوٹو عرب نیوز

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کی افغانستان کے ساتھ ایک طویل سرحد ہے اور افغانستان میں پیدا ہونے والے پھلوں اور سبزیوں کی ایک بڑی مقدار صوبے میں چمن بارڈر کراسنگ کے ذریعے داخل ہوتی ہے۔ تاہم حکومت کی نئی ویزا پالیسی کے خلاف تنائو دیکھا گیا ہے۔ حال ہی میں ہزاروں مظاہرین کی جانب سے سرحدی گزر گاہ کو بلاک کرنے کی وجہ سے سرحدی شہر چمن میں تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔

سرحدی کشیدگی پر بات کرتے ہوئے افغانستان کے صوبہ قندھار میں گذشتہ 50 سالوں سے انار کی کاشت کرنے والے 65 سالہ کسان حاجی ننائی کا کہنا ہے کہ تجارتی راستے کی بندش کے نتیجہ میں انار اور دیگر پھلوں سے لدے 400 سے زائد ٹرک اس وقت چمن کے ساتھ واقع اسپن بولدک بارڈر کراسنگ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے فون پر عرب نیوز کو بتایا کہ مقامی انار کے کاشت کار اور تاجر اپنی پیداوار کے پہنچنے کے حوالے سے بہت پریشان ہیں۔ اس وقت قندھار صوبے کے مختلف باغات میں انار کی بڑی مقدار برآمد کی جانی ہے اور یہ پیداوار چمن سرحد کے ذریعے پاکستان اور بھارت کو برآمد ہونے کی منتظر ہے۔

قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں: فوٹو عرب نیوز
قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں: فوٹو عرب نیوز

ایوان صنعت و تجارت چمن کے سابق صدر حاجی جلات خان اچکزئی کے مطابق پاکستان نے گذشتہ سال سردیوں کے موسم میں اکتوبر سے دسمبر کے درمیان چمن بارڈر کے راستے پچاس کروڑ روپے سے زائد مالیت کا قندھاری انار درآمد کیا تھا۔ اس سیزن کے آغاز سے اب تک افغان کسانوں نے اٹھارہ کروڑ روپے مالیت کے انار برآمد کیے ہیں۔ افغان انار کا ایک بیس کلو کا ڈبہ اس وقت بلوچستان میں ایک سے ڈیڑھ ہزار روپے کے درمیان فروخت ہو رہا ہے۔ جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں اسکی قیمت مختلف ہوتی ہے۔

شبیر احمد کوئٹہ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور مستونگ شہر رہتے ہیں ۔ وہ اپنے استعمال اور صوبہ پنجاب میں رہنے والے اپنے ایک دوست کے لیے انار کی اس خاص قسم کو خریدنے صوبائی دارالحکومت آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرخ انار غذائیت سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ مزیدار خاص طرح کے میٹھے ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔

شبیر نے عرب نیوز کو بتایاکہ بڑھتی ہوئی قیمت کے باوجود وہ قندھاری انار ہر سال اس موسم میں خریدتے ہیں کیونکہ اسے کھائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں: فوٹو عرب نیوز
قندھاری انار کے نام سے جانے والے سرخ جلد والے پھل میں غذائیت اور ذائقہ سے بھرپور، رسیلے لال سرخ بیج ایک سفید اندرونی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں: فوٹو عرب نیوز

اگرچہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرحدی منڈیوں میں کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی متاثر کر رکھی ہیں، پاکستانی سرحدی شہر چمن کے تاجروں کو خدشہ ہے کہ جاری احتجاج اور پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ روٹ کی غیر معینہ مدت کے لئے بندش سے سرحد پار تجارت سے منسلک افراد کو بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔


ایوان صنعت و تجارت چمن کے سابق صدر حاجی جلات خان اچکزئی نے عرب نیوز کو بتایاکہ اگر چمن اور اسپن بولدک پوائنٹس پر تجارتی راہداری طویل عرصے تک بندش کا شکار رہی تو انار اور دیگر پھلوں اور سبزیوں کی تجارت 50 فیصد سے زیادہ متاثر ہوگی۔اس کے علاوہ چمن اور بلوچستان میں ہزاروں لوگ انار کے کاروبار سے منسلک ہیں، اگر انکا یہ سیزن کمائی کا ذریعہ نہیں بنا تو ان کی معاشی صورتحال خراب تر ہو جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں