تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ پاکستان کے لیے بڑا چیلنج قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دبئی فنانشل سروسز بیورو کے سی ای او کا کہنا ہے کہ تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

انکا کہنا ہے کہ مالیاتی جرائم کے خلاف جاری جنگ میں، پاکستان کو تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ کے ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے، جس کے لیے جنوبی ایشیائی قوم کو گرے لسٹ سے نکالے جانے کے بعد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی شرائط کی تعمیل جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ منی لانڈرنگ اور فنانسنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف نے گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان کو ذیادہ نگرانی والے گرے ممالک کی فہرست سے نکال دیا تھا۔ جنوبی ایشیائی ملک 2018 سے "گرے لسٹ" پر تھا کیونکہ عالمی ادارے کے نزدیک س کی اسٹریٹجک انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے نظام میں سقم پائے گئے تھے۔

دبئی میں قائم مالیاتی حل فراہم کرنے والی کمپنی ایسٹ نیٹس(Eastnets) کے بانی اور سی ای او حازم ملحم نے گذشتہ روز عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایاکہ ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں پر ہمہ وقت نظر ثانی کی ضرورت ہوتی ہے- اس جاری عمل کی سال 2025 میں ایک بار پھر جانچ پڑتال ہونی ہے-

اس میں ایف اے ٹی ایف آئے کو اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ آیا بینکنگ انڈسٹری، گورننس اور پالیسیاں مجوزہ طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں اور کیا ملک ہر اس چیز پر عمل پیراہے جو مالیاتی دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق ہے۔

"اب، یقیناً چیلنجز ہیں۔ نئے چیلنجز تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ سے متعلق ہیں اور اس کا ایک (پاکستان) ستون تجارت ہے۔ تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم ہے اور اس کے لیے بہت ساری ایپلی کیشنز اور سسٹمز اور پالیسیاں اور بہت سارے کام کی ضرورت ہے۔

ایسٹ نیٹس نے 1980 کی دہائی میں اردن مکے دارالحکومت عمان میں ایک اسٹریٹ شاپ سے اپنا کام شروع کیا تھا، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ عمل عالمی سطح پر پھیل گیا ہے. یہ کمپنی نالی جرائم، ادائیگی کی دھوکہ دہی، اور SWIFT (بینک کوڈ) کی شناخت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے حل فراہم کرتی ہے۔

یہ فنٹیک اپنے دبئی ہیڈ آفس سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کے ممالک میں خدمات فراہم کرتی ہے اورخاص طور پرسال 2000 سے اسکا 30 پاکستانی بینکوں کو خدمات فراہم کر نے کا سلسلہ چل رہا ہے۔

ملحم نے کہا کہ مالیاتی صنعت کو عائد کی گئی شرائط کی تعمیل کرنا ہو گی تاکہ وہ نہ صرف اپنے ممالک بلکہ عالمی سطح پر دیگر تمام ممالک کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنا سکیں- اس امر سے عہدہ برآں ہونے کے لیے انہیں مالیاتی دہشت گردی، منی لانڈرنگ اور دھوکہ دہی جیسے مسائل کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

ایسٹ نیٹس کے سی ای نے کہا کہ جب ہم عالمی سطح پر ہونے والی ٹرانزیکشنز کی تعداد کو دیکھتے ہیں تو ہر سال کھربوں ڈالر کے حجم کی بارے میں بات کر رہے ہیں جو سوئفٹ نیٹ ورک پر منتقل ہو رہے ہیں ان ترسیلات زر میں سے دو ٹریلین ڈالر کی غیر قانونی رقم شامل ہے جو بنیادی طور پر یا تو منظم جرائم کے ذریعے ہوتی ہے یا منشیات فروشوں اور دھوکہ دہی کی سرگرمیاں کے باعث انجام پاتے ہیں-

ملحم نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا پاکستان کے لیے بہت اہم تھا، جس سے مالیاتی منڈیوں اور عطیہ دہندگان کے ساتھ ملک کی ساکھ بہتر ہوئی۔ انہوں نے اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈر کے کردار کو سراہا۔

تکنیکی ترقی کے ذریعے مالیاتی جرائم کا مقابلہ کرنے کے بارے میں ایک سوال پرایسٹ نیٹس کے سربراہ نے کہا کہ مالی شعبے میں تکنیکی پیشرفت اپنے اندر مثبت پہلو بھی رکھتی ہے اور منفی پہلو بھی. ان حالات میں تکنیکی پہلوؤں کے استعمال کے بارے میں آگاہی اور بھی ضروری ہو گئی ہے۔

ملحم نے کہا کہ ٹیکنالوجی مالی جرائم کا حل بھی پیش کرتی ہے. لیکن اس کیلئے ٹیکنالوجی کے بارے میں بہت زیادہ آگاہی ہونی چاہیے کیونکہ منظم جرائم کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی اپنی حکمت ہوتی ہے جو انہیں حملہ کرنے کے قابل بناتی ہے-

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں