پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اربوں ڈالر مالیت کے ایم او یوز پر دستخط

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید آل نہیان سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے پیر کو بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان اربوں ڈالرز کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات سے ایک ویڈیو پیغام میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان یادداشتوں پر دستخط کے موقع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وفاقی وزرا بھی موجود تھے۔

ویڈیو پیغام میں نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان معاہدوں پر دونوں ممالک کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، اس دوستی کی بنیاد شیخ زید بن سلطان آل نہیان نے 70ء کی دہائی میں رکھی تھی، ان کے صاحبزادے شیخ زید محمد بن آل نہیان اس دوستی کو نئی بلندیوں کی جانب لے گئے ہیں۔

جن ایم او یوز پر دستخط ہوئے وہ توانائی، پورٹ آپریشنز پروجیکٹس، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سیکیورٹی، لاجسٹک، کان کنی، ایوی ایشن اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون سمیت دوسرے شعبوں سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے بہت جلد پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات نظر آئیں۔

اعلامیے کے مطابق ان مفاہمت ناموں کی بدولت متحدہ عرب امارات کی پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گی اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت مختلف اقدامات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

نگران وزیراعظم کی اماراتی صدر سے ملاقات

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے آج پیر کو ابوظبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔

رہنماؤں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ سٹریٹجک تعاون اور بات چیت کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر اعظم کاکڑ نے اقتصادی اور مالیاتی شعبے میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے لیے بھرپور تعاون پر شکریے کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات 18 لاکھ پاکستانیوں کا گھر ہے جو دونوں برادر ممالک کی ترقی، خوشحالی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ملاقات کے دوران مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے خصوصی طور پر علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے 28 ویں کانفرنس آف پارٹیز (COP 28 ) کے لیے یو اے ای کی صدارت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے قیام سمیت ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے کلیدی شعبوں میں موثر اور نتیجہ خیز عالمی اقدامات کی جانب بامعنی پیش رفت کے موقع کے طور پر اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں