صرف دس فیصد پاکستانیوں کے نزدیک ملک صحیح سمت میں گامزن ہے: سروے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک بین الاقوامی کمپنی کی طرف سے عوام کے رجحانات جاننے کے ایک سروے میں یہ سامنے آیا ہے کہ 10 میں سے صرف ایک پاکستانی کا خیال ہے کہ ملک صحیح سمت میں سفر کر رہا ہے۔

ملک کے مستقبل کے حوالے سے یہ رجحان سال 2023 کی چوتھی سہ ماہی میں کئے گئے Ipsos کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس سروے میں سامنے آیاہے جس کے نتائج حال ہی میں جاری کیے گئے ہیں۔ 31 اکتوبر سے 3 نومبر 2023 کے درمیان کی گئی اس تحقیقی مشق میں ملک بھر سے ایک ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔

نتائج کے مطابق سروے میں حصہ لینے والے نوے فیصد افراد ملک کے مستقبل کے حوالے سے متفکر نظر آتے ہیں لیکن اس سہ ماہی میں کی جانے والی تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ مرد، خواتین کے مقابلے میں حالات میں بہتری کے حوالے سے چار گنا زیادہ پر امید ہیں۔

اس طرح یہ نتائج مجموعی طور پر پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ زیادہ مثبت رجحان ظاہر کرتے جب نگران حکومت نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی تھی۔ سروے کے یہ نتائج بڑھتی ہوئی مایوسی کے رجحانات کو دو سالوں کے بعد پلٹنے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔

تاہم سروے کے نتائج کی روشنی میں گھمبیر معاشی صورتحال پاکستانیوں کے لیے تشویشناک مسائل میں بدستور سرفہرست ہے۔

تحقیق میں مثبت پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے پاکستانی جو ملکی معیشت کی موجودہ حالت کو دگرگوں قرار دیتے ہیں، اس سہ ماہی میں انکا تناسب 76 فیصد سے کم ہوکر 60 فیصد تک ہو گیا ہے۔ جو کہ تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں 16فیصد کی خوش آئند کمی ظاہر کرتا ہے۔

سروے کے جواب کنندہ ہر تین میں سے ایک پاکستانیوں کو توقع ہے کہ ان کے علاقوں میں ان کی انفرادی مالی اور اقتصادی صورتحال اگلے چھ ماہ میں بہتر ہو جائے گی۔

لیکن سروے میں سوالات کے جواب دینے والے ہر 10 میں سے اوسطاََ صرف ایک پاکستانی مستقبل میں بچت اور سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں زیادہ پراعتماد تھا۔ تاہم اس رجحان میں ڈیڑھ سال تک مسلسل گراوٹ نظر آنے کے بعد پہلی بار مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کے موجودہ سہ ماہی میں چار فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسی طرح اپنی ملازمت کے تسسل کے حوالے سے جواب کنندہ کا اعتماد تیسری سہ ماہی کی سطح سے دوگنا بڑھ گیا ہے۔ لیکن واضح اکثریت یعنی اٹھاسی فیصد افراد ابھی بھی اس حوالے سے کم پر اعتماد دکھائے دیے۔ سروے میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ اوسطاََ ہر 10 میں سےپانچ پاکستانی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو خراب معاشی حالات کے باعث اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

سروے میں بتایا گیا کہ غالب اکثریت یعنی 98 فیصد پاکستانی گھر یا کار جیسی بڑی خریداری کے حوالے سے حالات کو موافق نہیں سمجھتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں انتخابات سے قبل نگراں حکومت کا قیام عمل میں آیا تھا۔ جولائی میں آئی ایم ایف کے قرض پروگرام سے ملک کو ڈیفالٹ سے روکنے میں مدد ملی ہے تاہم مجموعی طور پر ملکی اقتصادی معاملات مشکلات کا شکار رہی ہیں۔

بیل آؤٹ معاہدے کے تحت وفاقی حکومت کو عالمی قرض دہندہ کی طرف سے مطالبہ کردہ متعدد مشکل اقدامات اٹھانے پڑے، جن میں بجٹ پر نظر ثانی، پالیسی ریٹ میں اضافہ کرنے کی پالیسی کا تسلسل، اور بجلی اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ شامل ہے۔

بیل آؤٹ معاہدے کے تحت عالمی مالیاتی فنڈ نے حکومت پاکستان کو نئے ٹیکسوں کی مد میں 1.34 بلین ڈالر کے مساوی رقم اکٹھی کرنے کا ہدف بھی دیا۔ ان اقدامات نے مئی میں پچھلے سال کی نسبت مہنگائی کو 38 فیصد تک پہنچا دیا تھا، جو ایشیا میں سب سے بلند سطح ہے اور اس بلند افراط زر میں ابھی بھی کوئی خاص کمی نہیں لائی جا سکی۔

مقبول خبریں اہم خبریں