کراچی میں سینما پروجیکشنسٹ اور ان کے سیلولائڈ فن کی معدوم ہوتی نسل

35 ایم ایم فلم پروجیکٹر بنیادی طور پر ویسٹریکس اے-100 کی جگہ عشروں کے دوران ڈیجیٹل مشینوں نے لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک مقامی تفریحی چینل میں ریکارڈ کیپر کے طور پر دن بھر کام کرنے کے بعد 62 سالہ شرافت خان نے سوچا کہ اس ہفتے کے شروع میں کراچی کے ایک سینما گھر میں اپنے ایک پرانے دوست کو دیکھنے جائیں۔

یہ (ان کے دوست) ویسٹریکس اے-100 پروجیکٹر سے ان کی آخری ملاقات ہوگی۔ ڈیجیٹل ورژن کے کراچی بھر کے سینما گھروں پر قبضہ کرنے سے قبل وہ اس مشین کو برسوں سے بطور سینما پروجیکشنسٹ چلا رہے تھے۔

پاکستانی سینما گھروں اور فلموں کے عروج کے دور کا گواہ یہ پروجیکٹر شہر کے کسی کباڑ خانے میں جا رہا ہے جیسا کہ اس کی نسل کے دیگر پروجیکٹرز کے ساتھ ہوا ہے۔ 35 ملی میٹر (ایم ایم) فلم سے ڈیجیٹل میں تبدیل ہونے کے ساتھ میگا سٹی کے سینما گھروں میں کئی عشروں سے گھومنے والے اینالاگ پروجیکٹر جدید فلمیں چلانے کے قابل نہیں رہے۔

خان نے افشاں سنیما میں فلم کی ریل تھامے عرب نیوز کو بتایا۔ "ان مشینوں نے راج کیا۔ یہ اِن کا دور تھا۔"

"یہ 35 ایم ایم فلم اب کچرے میں بدل چکی ہے۔ لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے۔ آج وہ کچرا بنتے جا رہے ہیں۔ جب سینما گھروں سے نکل کر کباڑ ڈیلروں کے پاس پہنچ کر ان مشینوں کا کام تمام ہو جاتا ہے تو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔"

خان کو اپنے سالوں کے دوران تاریک سنیما گھروں میں مشینری کی کھٹاکھٹ اور فلمی ریلوں کی تیزی سے چلنے کی آواز یاد آئی جب وہ سیلولائیڈ کی بڑی ریلوں کے ساتھ ویسٹریکس اے-100 جیسے پروجیکٹر کو چلایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج بہت کم لوگ روایتی 35 ایم ایم فلموں کی خوبصورتی کے بارے میں جانتے یا سمجھتے ہیں اور ان کو چلانا کس قدر "مشکل کام" ہوتا تھا۔

کراچی کے وینس سینما میں ویسٹریکس اے-100 مشین اب بھی کام کر رہی ہے۔ یہ شہر کا واحد سینما ہے جہاں اب بھی پرانا پروجیکٹر استعمال ہوتا ہے۔ وہاں کے ایک تجربہ کار پروجیکشنسٹ محمد نعیم نے فخر سے پرانے آلات کو چلانے کے چیلنجوں کو بیان کیا۔

انہوں نے کہا، "ان مشینوں پر فلمیں چلانا ہر آپریٹر کے بس میں نہیں تھا کیونکہ پرنٹ چلانے سے لے کر ان کو جوڑنے اور چلانے تک سب کچھ درست ہونا ضروری ہے۔"

پروجیکشنسٹ نے وضاحت کی کہ اس عمل کے لیے آواز اور تصویر کی مطابقت پذیری کے ساتھ متعدد دستی تبدیلیاں کرنا پڑتی تھیں جس کے لیے "اعلی سطح کی مہارت" درکار ہوتی تھی۔

بیک وقت دو پروجیکٹر مشینیں ایک پروٹیکشن روم میں 35 ملی میٹر کی فلمی ریلوں سے کاربن باکس کی مدد سے ایک بڑی اسکرین پر بصری تصویر پیش کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔ 2,000 فٹ کی ریل صرف 20 منٹ تک جاری رہی اور آپریٹر نے نہایت مہارت سے ایک سے دوسری مشین پر تبدیلی کا عمل انجام دیا۔ عموماً کل آٹھ تبدیلیاں ہوں گی: چار وقفہ سے پہلے اور چار وقفہ کے بعد سے فلم کے اختتام تک۔

جدید پروجیکٹر کے برعکس پرانے سسٹمز میں آپٹیکل لینسز کے ساتھ ایک الگ ساؤنڈ ہیڈ ہوتا تھا جو ہموار مطابقت پذیری کے لیے تصویر سے 19.5 فریمز سے آگے یا پہلے آڈیو چلاتا تھا۔

کام کی دشواری کی وجہ سے خان نے کہا کہ پروجیکشنسٹ "انتہائی قابل احترام" ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا۔ "مالک اور مینیجر ہمارا احترام کرتے تھے۔ اگر ہم نہ آتے تو شو بند ہو جاتا تھا۔ مشین اور آپریٹر کے درمیان رشتہ ماں اور بیٹے جیسا تھا۔ جبکہ اس کمپیوٹرائزڈ دور میں ایک 15 سال کا بچہ بھی دیجیٹل سسٹم کو چلا سکتا ہے۔"

کراچی میں جدید دور کے ایٹریئم سینما کے ایک پروجیکشنسٹ ذیشان سہیل نے کہا، "ڈیجیٹل مشینوں اور لامحدود بوٹ ایبل فائلوں نے آپریٹرز کے کام کو کافی آسان بنا دیا ہے۔"

انہوں نے کہا۔ "اب سب کچھ بدل گیا ہے. آسانی کے ساتھ فلمیں یو ایس بی یا ہارڈ ڈرائیوز پر لائی جاتی ہیں۔ پروجیکشنسٹ اسے بآسانی سنبھال لیتے ہیں۔ وہ تمام پریشانی جو پہلے تھی، ختم ہو چکی ہے۔"

لیکن ایسے پروجیکشنسٹ بھی ہیں جنہوں نے ان مشینوں کو چلایا جس میں سے کئی لوگ اپنی ملازمتوں سے محروم ہو گئے اور اپنا پیشہ تبدیل کر لیا۔

خان نے کہا، "جس طرح مشینیں بیکار ہو گئی ہیں تو ہم بھی ردی بن گئے ہیں۔"

وینس سنیما کے نعیم نے بھی غم کا اظہار کیا جب انہوں نے اس جذبے کے بارے میں بات کی "جس کے لیے محبت ایک بہت چھوٹا لفظ ہے"، جو وہ پرانے پروجیکٹرز اور اپنے کام کے لیے محسوس کیا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا، "یقین کریں جب میں ان کو چلاتا تھا، میں اس طرح کھڑا ہوتا تھا اور یہ آواز، یہ آواز مجھے بہت پسند تھی،" اسی وقت ایک پروجیکٹر ان کے قریب ہی گنگنایا۔

"لیکن اب جب ان کی طرف دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ تڑپ کر رو رہے ہوں۔ پوچھ رہے ہوں کہ 'ہمیں کیا ہو گیا؟'۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں