ریڈسی فلم فیسٹیول میں شامل پاکستانی فلم’اِن فلیمز‘نےمین ہائیم ہائیڈلبرگ انعام جیت لیا

مختلف فلم فیسٹیولز کی زینت بننے والی فلم آسکرز کی بین الاقوامی زبان کی فیچر کیٹیگری میں بھی بھیجی گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی جانب سے آسکر کی بین الاقوامی فیچر کیٹیگری میں جمع کرائی گئی فلم "ان فلیمز" نے 72 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹیول مین ہائیم ہائیڈلبرگ میں انٹرنیشنل نیوکمر ایوارڈ جیت لیا ہے۔ یہ فلم کل جمعرات سے جدہ میں شروع ہونے والے ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی نمائش پذیر ہو گی۔

اس سال کے شروع میں مئی میں ضرار کاہن کی ہارر ڈرامہ فلم ان فلیمز 43 سالوں میں دوسری پاکستانی فلم بن گئی جس نے ڈائریکٹرز فورٹ نائٹ میں جگہ بنائی۔ یہ ایک ایسا ایونٹ ہے جو معروف کانز فلم فیسٹیول کے متوازی چلتا ہے۔ گذشتہ ماہ یہ فلم آزادانہ طور پر پاکستان کے جنوبی شہر کراچی کے ایٹریئم سینما میں 12 دن کے لیے ریلیز کی گئی جسے بعد میں 9 نومبر تک بڑھا دیا گیا تھا۔ اس فلم کی ٹورنٹو، بوسان، سیٹجز، ساؤ پاؤلو اور پنگیاو کے فلم فیسٹیولز میں بھی نمائش ہو چکی ہے۔

بین الاقوامی فلم فیسٹیول مین ہائیم ہائیڈلبرگ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا، "30,000 یورو کا مرکزی انعام انٹرنیشنل نیوکمر ایوارڈ پاکستانی ہدایت کار ضرار کاہن کو دیا گیا جنہوں نے ذاتی طور پر یہ ایوارڈ قبول کیا۔"

"اِن فلیمز ایک سنسنی خیز معاشرتی تصویر پیش کرتی ہے جس میں ایک نوجوان طالبہ پاکستان میں پدرانہ طاقت کے ڈھانچے اور اپنی ہی خاندانی تاریخ کے تاریک سایوں کے خلاف جنگ آزما ہے۔"

ایوارڈ کے جیوری ممبران ایلیسا شلوٹ، ڈینس ڈرکورٹ اور گوران اسٹولیوسکی نے فلم کے بارے میں کہا:

"ہمارا ایوارڈ ایک ایسے فلمساز کو جاتا ہے جو پوری فلم میں صنف کو تبدیل کرتا اور اس سے کھیلتا ہے اور ساتھ ہی وہ اپنے ناظرین اور فلم کے مرکزی کردار دونوں کے ساتھ تعلق برقرار رکھتا ہے۔ مرکزی کردار ایک نوجوان خاتون ہے جو بہادر بھی ہے اور نازک بھی اور ایک شاندار ڈیبیو پرفارمنس نے اس کردار میں جان ڈال دی ہے جو کہانی کے ماحول اور سٹیج کی تکمیل کرتی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں عرب نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بختاور مظہر نے ان فلیمز کو ایک نفسیاتی تھرلر قرار دیا جو خاندان کے سرپرست کے کھو جانے کے بعد ایک ماں (مظہر) اور اس کی بیٹی (رمیشا نوال) کی جدوجہد پر مبنی ہے۔ اس فلم کی تحریر و ہدایات ایوارڈ یافتہ کینیڈین پاکستانی فلمساز ضرار کاہن کی اور پیشکش انعم عباس کی ہے۔

نوال نے عرب نیوز کو بتایا، "اگرچہ فلم کو کراچی میں شوٹ کیا گیا لیکن دنیا بھر کی خواتین [فلم دیکھنے کے بعد] رو رہی تھیں گویا وہ کہہ رہی تھیں، ہم جانتی ہیں یہ کردار کس جدوجہد سے گذرا ہے اور ہم فریحہ اور مریم کی جدوجہد کو جانتی ہیں۔"

اگلے سال 96 ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے غیر ملکی زبان کی فلم کی کیٹیگری کے تحت "اِن فلیمز" پاکستان کی باضابطہ پیشکش بھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں