'کوئٹہ کے پائے':جنوب مغربی پاکستان میں شوربےوالے پائے سردیوں میں گویا روح کی غذا ہیں

بسم اللہ پائے کی دکان 1981 سے گاہکوں کو مختلف طرح کے پائے کے پکوان پیش کر رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سالہ اعجاز احمد کوئٹہ کی پرنس روڈ فوڈ اسٹریٹ پر اپنی بسم اللہ پائے کی دکان پر گاہکوں کی ایک طویل قطار کو ایک کے بعد ایک پیالے میں گاڑھے خوشبودار شوربے والے پائے پیش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ لطائف بھی سناتے اور ہنستے جاتے ہیں۔

اس چھوٹے سے ریستوراں کی خاصیت بکری، گائے اور بھینس کے پائے ہیں جو گھنٹوں تک بلکہ عموماً تمام رات پیاز اور لہسن کے ساتھ دم پخت کیے جاتے ہیں۔ ان میں سالن میں استعمال ہونے والے کئی مصالحہ جات گوشت اور ہڈیوں میں ڈالے جاتے ہیں۔ اس پکوان میں شوربے جیسا گاڑھا پن ہوتا ہے اور اسے تازہ کٹے ہوئے ادرک، دھنیے کے لمبے پتے اور لیموں کی قاشیں چھڑک کر پیش کیا جاتا ہے اور یہ اکثر پاکستان میں سردیوں میں ناشتے کے طور پر کھایا جاتا ہے۔

اگرچہ پائے وسطی اور مشرقی پاکستان میں خاندانی پنجابیوں میں مقبول ترین کھانا ہے لیکن کئی عشروں میں اس نے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں کھانے کی میزوں پر اپنی جگہ بنا لی ہے جہاں پروٹین اور چکنائی سے بھرپور پایوں کو موسمِ سرما کا بہترین کھانا سمجھا جاتا ہے۔

احمد جو ہندوستان سے نقل مکانی کرنے والے پنجابی خاندان سے ہیں، نے بتایا کہ ان کے مرحوم والد نے 1981 میں صوبے کے مقامی پشتون اور بلوچ قبائلیوں کا پائے سے تعارف کروایا تھا۔

ایک بڑے برتن میں جس کے اوپر چربی کی تہیں تیر رہی تھیں، پائے کے سالن میں چمچ ہلاتے ہوئے 42 سالہ احمد نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم گذشتہ چار عشروں سے بلوچستان میں مقامی قبائلیوں کو 'چھوٹے پائے' (بکری کے) اور 'بڑے پائے' (گائے یا بھینس کے) پیش کر رہے ہیں جو ہمارے مشہور [ترین] پکوان ہیں۔"

دکان کے مالک نے بتایا، سردیوں میں انہوں نے ایک دن میں 30 درجن چھوٹے پائے اور 200 بڑے پائے فروخت کیے جب صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی کاٹ دار سردی میں لوگ ریسٹورنٹ میں جمع تھے جہاں دسمبر اور جنوری میں بہتا ہوا پانی بھی جم جاتا ہے۔

دکان صبح 6 بجے سے آدھی رات تک کھلی رہتی ہے جہاں بکری کے پائے کا سالن 450 روپے ($ 1.60) اور گائے یا بھینس کے پائے کا سالن 400 روپے ($ 1.42) فی پلیٹ میں پیش کیا جاتا ہے۔

60 سالہ ڈاکٹر فرخ احمد جنہوں نے بتایا کہ وہ زمانۂ طالب علمی سے ہی مشہور دکان پر پائے کھا رہے ہیں، انہوں نے کہا وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ذائقہ بھی بہتر ہوا ہے۔

احمد نے عرب نیوز کو بتایا۔ "40 سال پہلے کوئٹہ میں کوئی بھی پائے سے واقف نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے جب میں کالج میں سائنس کا طالب علم تھا، ہمیں پتا چلا کہ یہ چھوٹی سی پائے کی دکان نئی نئی کھلی تھی اور ہم طالب علمی کے زمانے میں یہاں پائے کھانے آتے تھے۔"

"یہ پائے سستے ہیں اس لیے لوگ انہیں کھا سکتے ہیں اور ان کے کئی فوائد ہیں۔ یہ آپ کے سینے کو گرم رکھتا ہے اور فلو اور سینے کے انفیکشن سے بچاتا ہے۔ بعد میں لوگ اسے بچوں کے لیے پارسل بیگ میں لے جاتے ہیں۔"

کوئٹہ کے دورے پر آنے والے شمال مغربی وادی سوات کے رہائشی 55 سالہ میاں سعید نواب نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کہیں بھی ایسی پائے نہیں کھائے۔

نواب نے کہا، "لوگ کہتے تھے لاہوری اور پشاوری پائے مشہور ہیں لیکن سجی اور بلوچستان کے دیگر روایتی کھانوں کی طرح بلوچستان کے پائے بھی ان دنوں بہت مشہور ہیں اور لوگ انہیں سردی میں زیادہ کھاتے ہیں۔"

احمد نے کہا کہ اگرچہ پائے کی ابتدا درحقیقت جنوبی اور وسطی ایشیائی کھانوں کے امتزاج کے طور پر ہوئی تھی اور اسے موجودہ پاکستان میں لاہور اور ہندوستان کے لکھنؤ کے باورچیوں نے اپنا لیا تھا لیکن ان کی طرز کے پائے کو صوبے بھر میں پسند کیا گیا جہاں سردیوں کے دوران قلات، مستونگ، خضدار، چمن، زیارت اور قلعہ عبداللہ کے اضلاع کے دور دراز دیہاتوں سے گاہک آتے تھے۔

احمد نے مسکراتے ہوئے کہا، "اب ہم انہیں "کوئٹہ کے پائے" کہتے ہیں جیسے وہ کہتے ہیں "لاہوری پائے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں