بجلی چوری اور لائن لاسز کے خلاف کریک ڈاؤن میں فوج کو شامل کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وفاقی سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ حکومت بجلی چوری اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لائن لاسز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں فوج کو شامل کرنے کی سنجیدگی سے منصوبہ بندی کررہی ہے۔


ملک میں دس برقی تقسیم کارکمپنیاں ہیں جنہیں ڈسکوز ( DISCOs) کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ذیادہ تر کمپنیاں خسارے میں چل رہی ہیں۔ گوجرانوالہ (گیپکو)،فیصل آباد (فیسکو) اور دارالحکومت اسلام آباد (آئیسکو) کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں تو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں لیکن دیگر سرکاری کمپنیاں بجلی چوری کی بلند شرح اور وصولیوں کی کمی اور لائن لاسز

کی وجہ سے بڑے پیمانے پر خسارے میں ہیں۔ جس کے باعث ’بے قابو‘ گردشی قرضوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔


وضح رہے کہ نگران وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے ستمبر میں کہا تھا کہ 589 ارب روپے کی بجلی چوری روکنے کے لیے کریک ڈاؤن شروع کیا جا رہاہے۔


سیکریٹی پاور ڈویزن نے کہا کہ فوج کو کریک ڈائوں کا حصہ بنانے کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کی ابھی اعلی حکام سے منظوری باقی ہے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو ) سے شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ پاور ڈویژن کے سیکریٹری رشید لنگڑیال نے ایک قومی اخبار کو بتایا اس فیصلے سے DISCOs میں بےایمان عناصر کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی جس سے بجلی کی چوری اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کی روک تھام ممکن ہوسکے گی۔


فوج کے ادارے کی طرف سے ابھی تک سیکریٹری پاور ڈویزن کے ریمارکس پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن یہ خبر ڈالر کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آئی ہے جس سے روپے کی قدر میں گراوٹ روکنے میں مدد ملی تھی۔ کرنسی کی لین دین میں شامل متعدد افراد کے مطابق ملک میں بڑے پیمانے پر کریک ڈائون فوج کی مدد سے نتیجہ خیز بنایا جاسکا۔ اس سال ستمبر کے اوائل میں ڈالروں کی چور بازاری میں ملوث ڈیلروں پر چھاپے شروع ہونے کے بعد سے اب تک اس کریک ڈائون کے باعث انٹربینک اور اوپن مارکیٹوں میں کرنسی ریٹ کے فرق میں کمی کے ساتھ ساتھ دسیوں ملین ڈالر کی باقاعدہ چینلز میں واپسی ہوچکی ہے۔


کرنسی مارکیٹ میں جاری کریک ڈائون میں تیزی اس وقت آئی جب لائسنس یافتہ ڈیلرز نے اس معاملہ کو محض سویلین نگران حکومت پر چھوڑ نے کے بجائے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے کارروائی کو آگے بڑھانے کی درخواست کی۔ آرمی چیف نے مبینہ طور پر ڈیلرز سے ڈالر کے شرح تبادلہ اور انٹر بینک کے نرخوں میں شفافیت لانے کا وعدہ کیا تھا۔


واضح رہے کہ مالی سال 2020-21 کے اعداد و شمار کے مطابق حیسکو میں بجلی کے بلوں کی وصولی صرف 73.7فیصد، سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 64.6 فیصد، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 34.66 فیصد اور ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی 25.29 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں