نگران وزیراعظم انوارالحق دبئی میں کوپ 28 کانفرنس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں اقوام متحدہ کی کوپ 28 کانفرنس میں شرکت کے لیے دبئی میں ہیں۔

دبئی کے ایکسپو سینٹر میں اقوام متحدہ کے ’فریم ورک آن کلائمیٹ چینج‘ کے زیر انتظام ہونے والا یہ اجلاس ماحولیاتی تبدیلی پر ہونے والے ایک انتہائی اہم سالانہ کانفرنس ہے۔

وزیراعظم کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ وہ کل (جمعہ) اور ہفتے کے روز موسمیاتی تبدیلی کے لائحہ عمل سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

میڈیا ونگ وزیراعظم آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق دبئی کے المکتوم بین الاقوامی ہوائی اڈے پر متحدہ عرب امارات کے وزیر انصاف عبداللہ سلطان بن عوادالنعیمی، متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمزی اور پاکستانی سفارتی عملے نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔

نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی، نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر، موسمیاتی تبدیلی کے نگران وزیر احمد عرفان اسلم اور نگران وزیر توانائی محمد علی بھی کوپ 28 کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

پاکستان کی کوپ 28 سے توقعات

پاکستان سمیت وہ تمام ممالک اور خطے جو موسمیاتی تبدیلی کا باعث بننے والے ایندھن اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والی گیسز کا اخراج نہ کرنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے آنے والی آفتوں سے متاثر ہیں وہ اس کانفرنس سے اپنے لیے کسی اچھی خبر کے منتظر ہیں۔

موسمیات کی عالمی تنظیم (ڈبلیو ایم او) میں پاکستان کے نمائندہ اور محکمہ موسمیات پاکستان کے سابق سربراہ ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق ’پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں ایک ہے اور اس کانفرنس کے دوران پاکستان کو دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آنے والی آفات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق ’کوپ 28 کے دوران پاکستان عالمی کمیونٹی کو آگاہ کرے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث کن آفات کا سامنا ہے۔ ان میں شمالی علاقہ جات میں برف اور منجمد گلیشیئر بڑھتے درجہ حرارت سے پگھل کر جھیلوں میں تبدیل ہونے کے بعد وہاں آنے والے سیلاب یا گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز، سیلاب، سطح سمندر میں اضافہ، ہیٹ ویوز، لینڈ سلائڈز شامل ہیں۔‘

ڈاکٹر غلام رسول کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان میں 2010 اور 2022 کے سیلاب ملکی تاریخ کے بڑی قدرتی آفات تھیں۔ پاکستان نے اس کانفرنس کے دوران عالمی کمیونٹی کو یہ بتانا ہے کہ ان آفات کے دوران عالمی برادری نے پاکستان کے لیے بڑے وعدے کیے، مگر ان وعدوں کا تاحال 33 فیصد ہی پاکستان کو مل پایا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات عالمی برادری کو بتانے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کی معشیت پر ہو رہا ہے کیوں کہ پاکستان کو ہر حال میں اپنے ایڈاپٹیشن اور مٹیگیشن منصوبوں پر کام جاری رکھنا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کو اپنے وعدے پورے کرنا انتہائی ضروری ہیں۔‘

پاکستان کوپ 28 سے کیا مطالبات کرے؟

کوپ 28 سے پاکستان کے مطالبات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ ’پاکستان کو کوپ 28 سے سب سے بڑا مطالبہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا کرنا چاہیے۔ ٹیکنالوجی میں عالمی برادری کی پارٹنرشپ کی ضرورت ہے۔ تاکہ ترقی یافتہ ممالک کی ٹیکنالوجی کو مقامی کمپنیاں بنا سکیں۔ تاکہ پاکستان کے ایڈاپٹیشن اور مٹیگیشن کے منصوبے حل کرنے میں مدد مل سکے۔

’اس لیے اس بار پاکستان کا سب سے بڑا مطالبہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور عالمی برادی کی پارٹنرشپ پر ہونا چاہیے۔‘

ڈاکٹر غلام رسول نے کہا :’ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ عالمی برادری کسی بھی مد میں پاکستان کو نقد رقم ادا نہیں کرے گی۔ یہ گلوبل فنانس فار کلائمٹ چینج کے مختلف فورمز ہیں۔ ان کے پاکستان کو موثر پروپوزل اس طریقے سے پیش کرے کہ گلوبل فائنانس فار کلائمٹ چینج سے پاکستان کو خاطر خواہ حصہ مل سکے۔‘

پاکستان کی وفاقی وزارت برائے منصوبہ بندی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ کہ پاکستان کوپ 28 میں اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے مکمل تیار ہے اور اس مقدمے کے تحت کوپ 28 کے لیے پائیدار مستقبل کے فریم ورک کے ساتھ پاکستان کو مزید ہم آہنگ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں