'دوہری نعمت': سو سالہ پاکستانی خاتون خانہ کعبہ میں ہندوستانی بھانجی سے دوبارہ مل گئیں

1947 کی تقسیمِ ہند میں خاندان سے جدا ہو جانے والی حاجرہ بی بی کی بھارتی بھانجی سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک 105 سالہ پاکستانی خاتون اس ماہ خانہ کعبہ میں اپنی ہندوستانی بھانجی کے ساتھ ایک ملاقات میں دوبارہ مل گئیں جو ان کے نزدیک گویا ایک "خواب پورا ہونے" کے مترادف تھا۔ انہوں نے کہا، یہ ایک "دوہری نعمت" ہے جو زندگی کے آخری سالوں میں یہ ملاقات مکہ مکرمہ میں عمرہ کے دوران ہوئی۔

دیگر ہزاروں خاندانوں کی طرح حاجرہ بی بی 1947 کی تقسیم کے دوران اپنی بہن سے جدا ہوگئیں اور برطانوی حکومت سے آزادی کے نتیجے میں الگ الگ ممالک کی تشکیل کے بعد ایک صدی کے تین چوتھائی حصے تک جدا رہیں۔ تقسیم کے نتیجے میں خونریزی اور تشدد کی وجہ سے دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر ہجرت کا آغاز ہوا۔ آزادانہ اندازوں کے مطابق تقریباً 15 ملین لوگوں نے بنیادی طور پر مذہب کی بنا پر ملک بدلے اور مذہبی فسادات میں ایک ملین سے زیادہ افراد جان سے گئے۔

بی بی کا اپنی جدا شدہ بہن سے دوبارہ مل جانے کا سفر اس وقت شروع ہوا جب ان کے پاکستان پہنچنے کے دو عشروں بعد 1980 کے عشرے میں ایک خط ان کے پاس پہنچا۔ اس مقام سے پہلے وہ سمجھتی تھیں کہ ان کی بہن تقسیم کے دوران انتقال کر گئی تھیں۔

جب انہوں نے اپنی ہمسایہ مقامی کبڈی کھلاڑی آمنہ عاشق کو گذشتہ سال خط کے بارے میں بتایا تو آمنہ نے بی بی کی ایک پاکستانی یوٹیوبر ناصر ڈھلوں سے ملاقات کروا دی۔ ڈھلوں نے اپنے چینل پنجابی لہر ٹی وی کا استعمال کرتے ہوئے بھارت میں ان کے خاندان کا پتہ لگایا اور فون پر رابطہ قائم کیا۔ تبھی بی بی کو پتا چلا کہ ان کی بہن کا انتقال ہو گیا تھا لیکن ان کی ایک بھانجی تھی جس کی شناخت صرف اس کے پہلے نام حنیفاں سے ہوتی تھی اور وہ اب بھی ہندوستان میں رہتی تھی۔

دونوں کے ویزے حاصل کرنے میں متعدد بار ناکامی کے بعد ڈھلوں نے ان کے لیے عمرہ کے دورے کا اہتمام کیا اور وہ 15 نومبر کو خانہ کعبہ میں ملیں۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے یوٹیوبر کے سکھ دوست سردار پال سنگھ گل نے تینوں کے مکہ مکرمہ کے سفر کے لیے مالی تعاون فراہم کیا۔

بی بی نے مدینہ سے فون پر گفتگو میں عرب نیوز کو بتایا، "یہ واقعی ایک خواب پورا ہوا ہے اور میں زندگی میں پہلی بار خانہ کعبہ میں اپنی بھانجی سے ملاقات کا موقع ملنے پر اللہ کی شکر گذار ہوں جو میری زندگی کے اس مرحلے پر دوہری نعمت ہے۔"

"جبکہ میں نے ابتدائی طور پر فرض کر لیا تھا کہ شاید اس [بہن] کا انتقال تقسیم کے دوران ہو گیا ہو گا۔ 1980 کے عشرے میں مجھے ایک خط ملا جو دو عشرے پہلے ایک ایسے پتے پر بھیجا گیا تھا جہاں میں نہیں رہتی تھی۔"

تاہم اس پتے پر رہنے والا خاندان دو عشروں بعد بی بی کو خط پہنچانے میں کامیاب ہو گیا۔

بی بی نے کہا، "میں اس وقت اپنی [بہن] کو تلاش نہیں کر سکی تھی لیکن میری آخری خواہش تھی کہ میں موت سے پہلے ایک بار اپنے جدا شدہ خاندان کو دیکھ لوں۔ میں ان تمام لوگوں کی شکر گذار ہوں جنہوں نے اس دوبارہ ملاقات میں میری مدد کرنے کی کوشش کی۔"

گذشتہ سال بی بی نے اپنی ہمسایہ آمنہ عاشق کو بھارت سے آنے والے خط کے بارے میں بتایا جس نے ان کو دوبارہ ملانے کی سہولت میں دلچسپی پیدا کی۔

عمرہ کے دوران بوڑھی خاتون کی نگہداشت کرنے والی عاشق نے اسے اپنی زندگی کا ایک "فخر کا لمحہ" قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا، "ڈھلوں کی مدد سے ہم انہیں عمرہ کے لیے مکہ لے آئے جس کے نتیجے میں ان کی پہلی بار ملاقات ہوئی اور ان کو دوبارہ ملتے ہوئے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔"

یوٹیوبر نے کہا کہ انہوں نے گذشتہ دس سالوں میں اس طرح کے 300 سے زیادہ جدا شدہ افراد کو دوبارہ ملانے میں مدد کے لیے اپنے یوٹیوب چینل کا استعمال کیا ہے۔

ڈھلوں نے عرب نیوز کو بتایا، "اس چینل کو بنانے کا واحد مقصد تقسیم کے دوران جدا ہو جانے والوں کو دوبارہ ملانے کی سہولت فراہم کرنا تھا۔"

بی بی کے معاملے میں انہوں نے کہا کہ آمنہ عاشق نے ان سے رابطہ کیا اور اس کے بعد انہوں نے دسمبر 2022 میں کہانی کو اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا۔

انہوں نے کہا، "ابتدائی طور پر ہم نے کرتار پور میں ان کی ملاقات کا انتظام کرنے کی کوشش کی لیکن ہندوستان کی طرف سے حنیفاں کو [سفر کرنے کی] اجازت نہیں ملی اس لیے پھر ہم نے ان کی ملاقات مکہ میں کروانے کا فیصلہ کیا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں