امارات نے زراعت، توانائی اور بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کے لیے توجہ مرکوز کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کراچی میں متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے پاکستان کے ساتھ حال ہی میں ہونے والے اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری کے معاہدوں کے تحت زراعت، توانائی، بندرگاہوں، ذرائع آمد ورفت، اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے توجہ مرکوز کر لی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے اس ہفتے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے خلیجی ملک کے دورے کے دوران اربوں ڈالر کے منصوبوں سے متعلق کئی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔ ان معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات کی طرف سے 25 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی توقع کی جا رہی ہے ۔

اماراتی قونصل جنرل ڈاکٹر بخيت عتيق الرميث نے گذشتہ روز کراچی میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انکے ملک نے پاکستان کے ساتھ 20 سے 25 ارب ڈالر مالیت کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے اسے ایک اچھی سرمایہ کاری سے تعبیر دی۔

انکا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات ہمیشہ پاکستان میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتا رہا ہے اور زراعت، بندرگاہوں اور ذرائع آمد ورفت، توانائی اور فری زونز سمیت بہت سارے شعبوں میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے ان منصوبوں کے ثمرات کو آپس میں جوڑ کر برآمدات کو بڑھا سکیں۔

اماراتی ایلچی نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے اور آئندہ سال پاکستان میں آنے والی سرمایہ کاری کے حوالے سے روشن تر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ حکومت کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے نجی سرمایہ کار بھی فوڈ سیکیورٹی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی تشکیل اور فعال کردار کو سراہا -

یہ کونسل اس سال جون میں سول ملٹری ہائبرڈ فورم کے طور پر قائم کی گئی تھی جو فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنے اور غیر ممالک خاص طور پر خلیجی ملکوں سے سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

امارتی قونصل جنرل نے کہاکی یہ کونسل ایک مؤثر فورم کے طور پر یہ بہت تیز ی سے کام کو آگے بڑھا رہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس فورم کے معاملات خود دیکھیں ہیں اور مشاہدہ کیا ہے کہ کیسے کچھ ہی دنوں میں بہت سے معاملات پر ٹھوس پیش رفت ممکن ہوئی۔

قونصل جنرل کے مطابق متحدہ عرب امارات سے آنے والی سرمایہ کاری کے تحت کراچی میں برآمدی مرکز قائم کیا جائے گا اور صوبہ بلوچستان اور سندھ کے دور دراز علاقوں میں ذرائع آمد ورفت کے لئے کام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا شعبہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کا ایک لازمی رہا حصہ ہے اور موجودہ معاہدے خاص طور پر کاروبار کی بڑھوتری کے ماحول اور جگہوں پر توجہ مرکوز کریں گے اور بلوچستان اور سندھ کے متخلف علاقوں سے آمد ورفت کے شعبے پر کام کو آگے بڑھائیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات قریبی اتحادی ہیں۔ امارات، چین اور امریکہ کے بعد پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ پاکستان کے ساتھ جغرافیائی قربت کی وجہ سے ملک میں اسے ایک مثالی برآمدی منزل کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

مزید برآں، ترسیلات زر کے حوالے سے بھی اسے ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق متحدہ عرب امارات اٹھارہ لاکھ پاکستانی تارکین وطن کا گھر ہے اور سعودی عرب کے بعد ترسیلات زر کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے نگران وزیر اعظم کے اس ہفتے خلیجی ملک کے دورے کے دوران، توانائی، بندرگاہوں کے آپریشن کے منصوبوں، فوڈ سکیورٹی، لاجسٹکس، معدنیات، بینکنگ اور مالیاتی خدمات اور پانی کی ٹریٹمنٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں