مہنگی گیس: جنوبی پاکستان میں اگلے ہفتے سے صنعتی پیداوار بند کر نے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں صنعت کاروں نے پیر چار دسمبر کو اپنے صنعتی یونٹس احتجاجاََ بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ حکومت کو گیس کی قیمت میں اضافہ واپس لینے پر مجبور کیا جا سکے۔

سوئی گیس کی قیمت میں حالیہ اضافہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرض پروگرام کے پہلے جائزے سے قبل نافذالعمل ہو گیا تھا جس سےگھریلو استعمال اور صنعتوں کے لیے قدرتی گیس سو فیصد سے بھی ذیادہ مہنگی ہوگئی ہے۔

پیداواری لاگت بڑھنے سے پہلے ہی پریشان، ملک کے جنوبی صوبہ سندھ کے صنعت کاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے حالیہ اضافے سے صنعت کے لیے گیس کے نرخ تقریباً چھبیس سو روپے فی یونٹ (MMBtu) ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے کم کر کے تیرہ سو پچاس روپے فی یونٹ تک لایا جانا چاہیے۔

اس اضافے کے خلاف کراچی کے صنعتکاروں نے پیر 4 دسمبر کو تمام صنعتوں کو احتجاجاََ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انکا احتجاج میں نوری آباد اور کوٹری چیمبرز کے ساتھ بلوچستان سے لسبیلہ چیمبر بھی شامل ہوگئے ہیں ۔ ان نمائندہ تنظیموں نے ایوان صنعت و تجارت کراچی (کے سی سی آئی) کی طرف سے اختیار کی جانے والی تمام حکمت عملیوں کی مکمل حمایت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کراچی چیمبر میں میں حکمران بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے وائس چیئرمین جاوید بلوانی نے کہا کہ صنعتیں پہلے ہی اپنی احتجاجی سرگرمیاں شروع کرچکی ہیں۔ اس ضمن میں تمام تجارتی انجمنوں کے دفاتر پر احتجاجی بینرز لگا ئے جا چکے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ صنعت تیرہ سو پچاس روپے فی یونٹ کے منصفانہ گیس ٹیرف کا مطالبہ کرتی ہے لیکن وہ اکیس سو روپے سے لے کر چھبیس سو روپے فی یونٹ تک کے ناقابل برداشت اور گیس ٹیرف کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ بے تحاشہ اضافہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ملک کے صنعتی شعبے کو سخت سزا دینے کے مترادف ہے۔

محمد کامران عربی، صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے کہا کہ گیس کا نیا ٹیرف صنعتوں کے لیے صرف ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس منعقد کرے تاکہ پیداواری اخراجات کو سامنے رکھتے ہوئے گیس کی قیمتوں پر مشاورت کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں