پاکستان خلیجی ممالک سے آزادانہ تجارتی معاہدے کی منظوری کے قریب تر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد خلیج تعاون کائونسل (جی سی سی) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے تحت سرمایہ کاری کے معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے سعودی عرب کے دورہ پر ہے۔

نگران وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز کی سربراہی میں یہ وفد پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کے سرمایہ کاری سے متعلق باب کو حتمی شکل دینے کے لیے سعودی عرب کا دورہ کررہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری کے طریقوں پر اتفاق رائے ہو گیا جس سے خلیج تعاون کائونسل (جی سی سی) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کی توثیق کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جو کہ گزشتہ 19 سالوں سے زیر التوا تھا۔

نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز نے اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ ہفتے کے روز ریاض میں خلیج تعاون کائونسل کے چیف مذاکرات کار کے ساتھ بات چیت کا آخری دور مکمل کیا۔ اس طرح آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد ملی جو اتوار کو دوحہ میں جی سی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے ایک اہم قدم ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ اس اجلاس میں پاکستان کے ساتھ تاریخی معاہدے کو منظورکر لیا جائےگا۔

آزاد تجارتی معاہدہ کے سرمایہ کاری کا باب اب منظوری کے لیے جی سی سی کے وزراء کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو پہلے ہی میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔جی سی سی سیکرٹریٹ کو چھ رکنی اتحاد کی جانب سے معاہدے پر دستخط کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اگر اس ایجنڈہ آئٹم کی منظوری دی جاتی ہے، تو یہ گزشتہ پندرہ سالوں میں خلیج تعاون کائونسل کا کسی بھی ملک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کا پہلا معاہدہ ہو گا۔

خلیجی وزراء اتوار کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 44 ویں خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کررہے ہیں جس کی صدارت قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن کریں گے-

جن کا ملک وزارتی کونسل کا موجودہ صدر بھی ہے - اور اس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس خلیجی رہنماؤں کی موجودگی میں دوحہ میں منگل کو ہونے والے جی سی سی سپریم کونسل کے 44ویں اجلاس کے آغاز کے لیے جاری تیاریوں کا تسلسل ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور چھ رکنی جی سی سی بلاک نے اگست 2004 میں ایف ٹی اے پر بات چیت کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے لیکن دوطرفہ مذاکرات کے صرف چند دور ہی منعقد ہوسکے۔

تاہم،خلیجی تعاون کائونسل اور پاکستان نے طویل وقفے کے بعد 2021 میں آزادا تجارتی معاہدے پربات چیت کا دوبارہ آغاز کیاتھا۔
گزشتہ سال، دونوں فریقوں نے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے تکنیکی سطح پر بات چیت شروع کی جس سے پاکستان کو چھ ملکی بلاک، جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر اور کویت شامل ہیں، کو اپنی برآمدات بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستانی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا، دونوں اطراف کی تکنیکی ٹیموں نے سرمایہ کاری کے باب کی بقیہ تفصیلات بشمول سرمایہ کاری کے تحفظ اور سہولت پر ہمہ جہت بات چیت کو آگے بڑھایا۔مذاکرات کاروں نے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ پر ایف ٹی اے کے ممکنہ اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

بیان کے مطابق، آزادا تجارتی معاہدے سے پاکستان اور جی سی سی کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی توقع ہے۔ معاہدے سے دونوں خطوں میں نئی ملازمتیں اور کاروبار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اعجاز گوہر نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور جی سی سی کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے حوالے سے ایک بڑا قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا باب معاہدے کا ایک اہم حصہ ہے اور امید ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان جلد ہی ایک معاہدہ طے پا جائے گا۔

وزارت کے بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے پاکستان اور جی سی سی کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مستقبل قریب میں مشترکہ کاروباری فورم کے انعقاد کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

یاد رہے کہ فی الحال، پاکستان کے چین، ملائیشیا اور سری لنکا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے ہیں، لیکن اسے دیگر ممالک کے ساتھ برآمدات بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں