پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں قطر کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ کا حصہ بننے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

نگران وفاقی وزیر برائے انفرمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عمر سیف نے قطر کے دورے کے آغاز پرکہا ہے کہ پاکستان خلیجی جزیرہ نما ملک کی بڑھتی ہوئی آئی ٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔

ڈاکٹڑ عمر سیف کی سربراہی میں تیس کے قریب معروف پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل پہلا بھاری بھرکم وفد قطر کے پانچ روزہ دورے پر ہفتہ کو دوحہ پہنچاہے۔ نگران وفاقی وزیر، جو کہ خود بھی ایک مانے ہوئے آئی ٹی پرفیشنل ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز اور فری لانس ڈویلپرز کے ساتھ کام اور قطری کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنےکے مواقع تلاش کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔

واضح رہے کہ خلیجی خطے میں وسیع تر کاروباری رجحانات کے عین مطابق، قطر تیزی سے اپنی معیشت کو متنوع بنا رہا ہے اور اسکی توجہ خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی پر مرکوز ہے۔ قطرجدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر کئی اقدامات اٹھا رہا ہے، جیسے کہ اسمارٹ سٹی کا قیام، ٹیک سٹارٹ اپس کو شروع کرنا سمیت فیفا ورلڈ کپ 2022 جیسے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جدید ایونٹس کی میزبانی۔

اس کے ساتھ ساتھ حکمت عملی میں اسٹریٹجک تبدیلی لاتے ہوئے علم پر مبنی معیشت کے قیام کے لیے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سیکیورٹی جیسی جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو اپنا شامل ہے۔

پاکستانی وزارت آئی ٹی کے مطابق، اتوار کو 'پاک-قطر ٹیک کنیکٹ' کے عنوان سے ایک تقریب میں سرکاری اور نجی شعبوں کے ممتاز ماہرین کو اکٹھا کیا گیا، جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اشتراک اور تجارت کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس تقریب میں کاروبار سے کاروبار (B2B) شراکت کار قائم کرنے کے ایک موثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔

ڈاکٹر سیف نے دوحہ سے عرب نیوز کو بتایا، قطر کے کاروباری حلقوں کے لیے پاکستان، صرف دو گھنٹے کے فاصلے پر ایک وسیع ملک ہے جہاں ایک مضبوط آئی ٹی انفراسٹرکچر، متنوع مصنوعات، خدمات، اور ہنر مند پیشہ ور افراد کا وسیع نیٹ ورک ہے جو بلاشبہ قطر کی بڑھتی ہوئی آئی ٹی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ انہوں نے دوحہ میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کی آئی ٹی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ پاکستانی آئی ٹی فرموں کے ساتھ اشتراک قائم کرنے کے لیے قطری کاروباری اداروں کے ساتھ پرجوش ماحول میں ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بار دورے میں تیس پاکستانی فرمیں حصہ لے رہی ہیں لیکن مستقبل قریب میں پاکستان قطر میں ایک نمائش منعقد کرے گا جہاں تین سو آئی ٹی فرمز کے نمائندگان موجود ہونگے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستانی کمپنیوں کے لیے قطر میں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔

نگران وزیر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان قطر آئی ٹی کانفرنس دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات، مشترکہ ترقی اور بہتر تکنیکی تعاون کے لیے ایک محرک کے طور پر کا کام کرے گی۔

انہوں نے کہاانکی ملاقات قطر فنانشل سینٹر کے سی ای او یوسف محمد الجیدہ اور ان کی ٹیم کے ساتھ ایک ملاقات کی ۔انکا کہنا تھا ک ہ ایسے رابطوں سے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو قطر میں اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے عملی ترغیباب ملنے کی راہ ہموار ہو گی۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی وفد کے اس دورے کا مقصد ایک مشترکہ اور پائدار پلیٹ فارم کا قیام ہے جو دونوں ممالک کے پیشہ ور افراد کو بغیر کسی رکاوٹ کے علم، مہارت اور تکنیکی ترقی کے شعبوں میں اشتراک کے قابل بنائے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں اس تعاون کا مقصد مختلف کاروباری شعبوں کو قطر کی نمایاں ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ایک محفوظ تکنیکی نظام تشکیل دینا ہے۔

انہوں نے اپنے ہم منصب محمد بن علی بن محمد المنائی کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ، جس سے وہ دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی ترقی اور باہمی تعاون کی صلاحیت کا خود مشاہدہ کر سکیں۔

انہوں نے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے کام کے مواقع میں مدد گار کردار ادارکرنے پر قطر کے مالیاتی مرکز اور فری زون کے کردار کی تعریف کی۔
دورے میں پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) کے چیئرمین زوہیب خان نے بنیادی توجہ B2B بات چیت پرمرکوز رکھی۔ ان رابطوں میں سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور دیگر آئی ٹی خدمات میں مہارت رکھنے والی پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے شرکت کی۔

انہوں نے بتایاکہ قطری کمپنیوں نے فِن ٹیک، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں نمایاں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ ان رابطوں کے نتیجے میں متعدد پاکستانی وفود نے امید افزا کاروباری رابطے کیے جو کہ آنے والے ہفتوں میں ٹھوس پیش رفت میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قطری فرموں کے ساتھ تعاون مزید بڑھے گا اور کئی پاکستانی کمپنیاں خلیجی ملک میں رجسٹریشن پر غور کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دورہ کے دوران حکومت سے حکومت (G2G) اجلاس کے انعقاد پر توجہ بھی مرکوز ہو گی۔ ان رابطوں سے توقع ہے کہ ترسیلات زر میں اضافہ کے ذریعے پاکستانی آئی ٹی برآمدات پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں