'دو جہانوں کا انضمام': برطانوی پاکستانی سوپرانو کا 'صوفی اوپیرا' کو نئی بلندیوں تک لے

سائرہ پیٹر برطانوی قومی ترانہ گا چکی ہیں، ان کا صوفی اوپیرا 'ماروی کے آنسو' زیرِ تکمیل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اگرچہ اوپیرا کو 1600 کے عشرے میں فلورنٹائن کیمراٹا نے اٹلی بالخصوص وینس جیسے شہروں میں دریافت کیا تھا لیکن اس کی ایک صنف "صوفی اوپیرا" برطانوی-پاکستانی سوپرانو سائرہ پیٹر نے دریافت کی۔ یہ ایک پاکستانی رئیلٹی شو کے دوران صوفی موسیقی کے لیے وقف ایک شام تھی جو اس دریافت کی وجہ بنی۔

سائرہ پیٹر 2014 میں سندھی صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کی تحریرات میں محبت، امن اور مذہبی ہم آہنگی کے پیغام سے اس وقت متأثر ہوئیں جب انہوں نے "وائس آف سندھ" رئیلٹی شو میں جج کے طور پر کام کیا۔ اس نے انہیں انگریزی میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کی صوفی شاعری گانے پر مجبور کیا۔

17 زبانوں میں گانے کی صلاحیت کی حامل برطانوی-پاکستانی اوپیرا اسٹار جو عالمی سطح پر پرفارم کر چکی ہیں، نے 'Resplendent' کے عنوان سے بھٹائی کی شاعری پر مبنی ایک البم جاری کیا۔

اب وہ صوفی اوپیرا کو مرکزی دھارے کی صنف کے طور پر قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

پیٹر نے اس ہفتے عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا، "یہ صوفی اوپیرا مغربی کلاسیکی موسیقی اور ہماری پاکستانی کلاسیکی موسیقی دونوں کا امتزاج ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دو جہاںوں کے انضمام کے مترادف ہے۔"

کراچی میں پیدا ہونے والی پیٹر کہتی ہیں کہ وہ چرچ کے طائفوں میں گاتی تھی اور بینجمن برٹن کے شاگرد پال نائٹ سے سیکھنے کے بعد انہوں نے اپنے مغربی کلاسیکی سفر کا آغاز لندن میں 2000 کے عشرے کے اوائل میں کیا جب ان کا خاندان وہاں منتقل ہوا۔

پیٹر کے والد ظفر فرانسس نے لندن میں نور جہاں آرٹس سینٹر کا آغاز کیا جسے برطانوی سپرسٹار سر کلف رچرڈ نے 1998 میں کھولا تھا۔ پیٹر جو اس پرفارمنگ آرٹس سینٹر کی ڈائریکٹر ہیں، وہاں مغربی اور پاکستانی کلاسیکی موسیقی سکھاتی ہیں۔

2018 میں برطانیہ کی حکومت نے برطانوی پاکستانی اوپیرا سٹار سے ان کی آواز میں برطانوی قومی ترانہ ریکارڈ کرنے کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے کہا۔ "یہ تھا 'گاڈ سیو دی کوئین۔' اس کے بعد برطانوی حکومت نے دوبارہ مجھ سے 'گاڈ سیو دی کنگ' ریکارڈ کرنے کو کہا۔ اس لیے وہ اپنی تقریبات میں میرا ریکارڈ شدہ برطانوی قومی ترانہ استعمال کرتے ہیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جب وہ شہریت دیتے ہیں۔"

پیٹر اس وقت صوفی اوپیرا "ماروی کے آنسو" پیش کرنے کے لیے لندن میں مقیم موسیقار نائٹ کے ساتھ اشتراک کر رہی ہیں جو ماروی کے بارے میں بھٹائی کی لوک کہانی پر مبنی ہے۔ ماروی ایک دیہاتی لڑکی تھی جس نے ایک طاقتور بادشاہ کی چالوں کے خلاف مزاحمت کی اور اپنے گاؤں کے لوگوں کے درمیان رہنے کا انتخاب کیا۔

وہ اوپرا میں مرکزی کردار ادا کریں گی جس کی نمائش اگلے سال کے اوائل میں لندن میں متوقع ہے۔

پیٹر نے کہا۔ "ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور یہ لندن کے میدانوں میں پرفارم کرنے کے لیے تقریباً تیار ہے۔ ہمارے پاس لندن سے کئی اوپیرا گلوکار ہوں گے۔"

"پہلی ورکشاپ فروری میں لندن میں ہونے جا رہی ہے۔ اس لیے ہمارے پاس لائیو پاکستانی موسیقار اور لائیو مغربی کلاسیکل موسیقار ہوں گے۔ وہ ایک ساتھ پرفارم کریں گے۔"

انہوں نے کہا، "میرے لیے ایک برطانوی-پاکستانی کی حیثیت سے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ [ایک] پاکستانی کہانی کو مغربی کلاسیکی لوگوں کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اور یہ کہانی درحقیقت پاکستان کے مثبت امیج کی عکاسی کرتی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں