پہلے دس دنوں میں صرف چودہ فیصد حج درخواستیں جمع کروائی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مہنگائی کے ستائے پاکستانیوں نے اگلے سال حج کے لیے ابتدائی طور پر کم دلچسپی کا اظہار کیا ہے

ایک اہلکار نے بتایا کہ سرکاری سکیم کے تحت 89,605 عازمین کے کوٹے کے مقابلے میں پہلے 10 دنوں میں حج 2024 کے لیے صرف چودہ فیصد یعنی 13,000 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے حکومت کی سکیم کے تحت حج 2024 کی درخواستیں 27 نومبر سے طلب کی ہیں اور یہ سلسلہ دو ہفتوں یعنی 12 دسمبر تک کے لیے جاری رہے گا۔

ایک اہلکار نے کہا کہ ممکنہ طور پر درخواست دہندگان کے سست ردعمل کی ایک وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ہو سکتی ہے۔

حج ایک سالانہ اسلامی عبادت ہے جو 1,400 سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ یہ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے، اور ہر بالغ مسلمان اگر مالی اور جسمانی طور پر قابل ہو تو اسے اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار مقدس اسلامی مقامات کا سفر کرنا چاہیے۔

پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے سرکاری سکیم کے تحت حج 2024 کی متوقع لاگت 10 لاکھ 75 روپے رکھی ہے۔

وزارت مذہبی کے ترجمان عمر بٹ نے عرب نیوز کو بتایاکہ سرکاری سکیم کے تحت 10 دنوں میں حج کے لیے اب تک تقریباً 13,000 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

درخواست دہندگان کی جانب سے سست ردعمل کی وجہ مہنگائی اور قبل از وقت حج درخواستوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ نومبر میں سال بہ سال کی بنیاد پر مہنگائی میں 29۔2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملک کے ادارہ شماریات کے مطابق نومبر میں قیمتوں میں 2۔7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس سے پچھلے مہینے میں ایک فیصد اضافہ ہوا تھا۔

عمر بٹ نے مزید کہا کہ پاکستان پچھلے سیزن یعنی 2023 میں اپنا حج کوٹہ پورا کرنے میں ناکام رہا تھا اور 8000 عازمین حج کا کوٹہ سعودی عرب کے حوالے کر دیا تھا۔

اس سال، سعودی عرب نے پاکستان کا 179,210 عازمین حج کا قبل از کرونا وائرس مجموعی حج کوٹہ بحال کیا اور حج کی ادائیگی کے لیے 65سال کی عمر کی بالائی حد ختم کر دی۔ 2023 میں 81,000 سے زائد پاکستانی عازمین نے سرکاری سکیم کے تحت حج کیا جبکہ باقی نے پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کا استعمال کیا۔

حج اسپانسر شپ سکیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمر بٹ نے کہا کہ حکومت کو اب تک 25,000 عازمین کے مختص کوٹے کے مقابلے میں 1,000 سے کم درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

حکومت کی جانب سے 'اسپانسر شپ سکیم حج' اس سال متعارف کرائی گئی تھی، جس کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حج کے لیے درخواست دینے یا پاکستان میں کسی کو امریکی ڈالر ادا کر کے سفر کے لیے اسپانسر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ایسے درخواست دہندگان کو بیلٹنگ کے عمل میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت درخواست دہندگان کی کم دلچسپی کے پیش نظر حج درخواستوں کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، دوسری دفعہ حج کرنے کی اجازت دینے کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان مطلوبہ تعداد میں حج درخواستیں وصول کرنے میں ناکام رہا تو اسے ایک بار پھر اپنے عازمین حج کا کوٹہ سعودی عرب کے حوالے کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگلے سال کے حج کے لیے درخواست دہندگان کو COVID-19 کے حفاظتی ٹیکوں کے سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس بیماری کو اب صحت عامہ کی ایمرجنسی قرار نہیں دیا ہے۔

اس سال سعودی عرب نے اسلام آباد میں کامیاب آپریشنز کے بعد کراچی کو بھی اپنے مکہ روٹ انیشیٹو میں شامل کیا ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اسکیم کے تحت حج کرنے والے عازمین کو اپنے آبائی ممالک کے ہوائی اڈوں سے سعودی عرب میں داخل ہونے کے لیے امیگریشن کے تمام تقاضوں سے گزرنے کی سہولت ملتی ہے۔

اسلام آباد نے مملکت سے مزید پاکستانی زائرین کی سہولت کے لیے لاہور ایئرپورٹ کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں