آئی ایم ایف سے پاکستان کے لیے قرض کی منظوری کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ 11 جنوری، 2024 کو منعقدہ اجلاس میں پاکستان کے لیے اپنے قرض پروگرام کے تحت 70 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط کی حتمی منظوری پر غور کرے گا۔

عالمی مالیاتی فنڈ کے بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے قرضے کی منظوری کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی تاریخ سامنے آنے کے بعد کئی دنوں تک جاری رہنے والی چہ مگوئیوں اور افوہوں کا سلسلہ تھم جانے کا امکان ہے۔

پچھلے مہینے آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ اس نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے پہلے جائزے کے طور پر عملے کی سطح کے معاہدے پر پہنچ گیا ہے جو ملک کے لئے ستر کروڑ ڈالر کے قرض کی فراہمی کے لئے پہلا قدم تھا۔

یہ فنڈز بیل آؤٹ کی دوسری قسط پر مشتمل ہونگے جو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

تاہم، حال ہی میں عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے بورڈ کے رواں ماہ کے وسط میں ہونے والے اجلاس کے اعلان شدہ ایجنڈے میں پاکستان کے قرض پروگرام کو حصہ نہیں بنایا گیا تھا۔ جس سے چہ مگوئیوں کا ایک لامتناہی سلسہ شروع ہو گیا تھا۔

تاہم آئی ایم ایف کے اس حوالے سے جمعہ کو سامنے آنے والے بیان کے بعد تبصروں اور خدشات کا یہ سلسلہ رک جانے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان قرض پروگرام کے لئے بورڈ کا اجلاس 11 جنوری ، 2024 کو ہو گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کو حالیہ سالوں میں ادائیگی کے شدید عدم توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی طور پر بڑھتے ہوئے افراط زر کے چیلنج اور کرنسی کی قدر میں غیر معمولی کمی کا سامنا تھا جس کے باعث معیشت شدید مشکلات کا شکار ہوگئی تھی۔ تاہم آئی ایم کی جانب سے قرض پروگرام کی منظوری سے قومی معیشت کو سنبھالا دینے میں مدد ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں