اسلام آباد چرچ کانفرنس،مسلم ۔عیسائی مذہبی رہنماؤں کی غزہ میں اسرائیلی 'بربریت'کی مذمت

اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دیا، معصوم فلسطینیوں کے قتلِ عام کی مذمت کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستانی عیسائی اور مسلم مذہبی رہنماؤں نے جمعرات کو غزہ میں اسرائیل کے "وحشیانہ" قتلِ عام کی مذمت کی اور یہودی ریاست پر مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی یکساں مقدس سمجھی جانے والی سرزمین پر بے گناہ فلسطینیوں کا خون بہانے کا الزام لگایا۔

13 اکتوبر کو جب اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹے کے نوٹس پر رہائشیوں کو جنوب کی طرف نکل جانے کا حکم دیا تھا، تب سے اب تک ایک ملین سے زیادہ فلسطینی شمالی غزہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

جنگی طیاروں سے غزہ کے گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ حماس کے عسکری ونگ کی طرف سے 7 اکتوبر کو شروع کیے گئے بھرپور حملے کا جواب دے رہا ہے۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران اسرائیل کی جنگ میں 15000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی امدادی اداروں نے فلسطین میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

راولپنڈی میں سینٹ میریز کیتھولک چرچ کے ایک معزز فادر سرفراز سائمن نے اسلام آباد میں فلسطین یکجہتی کانفرنس کے شرکاء کو بتایا، "آج ہم فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے غزہ میں انسانیت پر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔"

کانفرنس میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی غرض سے شرقِ اوسط کے لیے وزیرِ اعظم کے خصوصی ایلچی حافظ مولانا طاہر اشرفی سمیت کئی مسلم رہنماؤں نے شرکت کی۔

سائمن نے نشاندہی کی کہ پوپ فرانسس نے بھی غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مذہب میں بے گناہوں پر ظلم کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، "اسرائیل مقدس سرزمین پر بے گناہوں کا خون بہا کر مظالم کا ارتکاب کر رہا ہے۔" سائمن نے کہا، اسرائیلی مظالم غزہ میں بے گناہوں کو بلا لحاظِ مذہب و ملت نشانہ بنا رہے ہیں۔

اکتوبر میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ میں یونانی آرتھوڈوکس گرجا گھر کو نشانہ بنایا جو شہر کے قدیم ترین گرجا گھروں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ایک قدیم ترین گرجا گھر تباہ ہو گیا جہاں 25 کے قریب مسیحی بھی مارے گئے۔

"اسلام کی طرح عیسائیت اور یہودیت دونوں کسی بے گناہ کے قتل کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔"

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اشرفی نے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر غزہ میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔

اشرفی نے کہا، "غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کے تحت ایک خصوصی ٹریبونل قائم ہونا چاہیے۔"

انہوں نے کہا، پاکستان نے ہر عالمی پلیٹ فارم پر غزہ کی حالتِ زار کو اٹھایا ہے۔ پاکستان میں ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسرائیل کی جنگ ختم ہو۔

اشرفی نے کہا، "مسلمانوں کے ساتھ مسیحی برادری بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔"

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے اسرائیل کے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کا خود تجزیہ کریں۔

انہوں نے کہا، "اسرائیل کے حامیوں کو خود اپنے عمل کا تجزیہ اور سوال کرنا چاہیے کہ کیا عورتوں اور بچوں سمیت معصوم لوگوں کو بلاامتیاز قتل کرنا جائز ہے؟"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں