برسوں پہلے سراج الدین حقانی کے پاس پاکستانی پاسپورٹ رہا، پاکستان کا محتاط رویہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے موجودہ وزیر سراج الدین حقانی نے پاکستان کے جاری کردہ پاسپورٹ بیرون ملک سفروں کے دوران استعمال کیا ہے۔ خصوصاً قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں سراج الدین حقانی بھی قطر آتے جاتے رہے۔

انہی مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ نے افغانستان سے انخلاء کو تسلیم کیا اور طالبان کی کابل میں حکومت کی راہ ہموار ہو گئی۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ مذاکرات کا حاصل اگست 2021 میں سامنے آیا اور اشرف غنی کابل سے ' آؤٹ' اور طالبان کابل میں 'ان' ہو گئے۔

تاہم ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ نے اس سلسلے میں میڈیا رپورٹس کے بارے میں محتاط انداز اختیار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ سے جمعرات کے روز اس بارے میں دریافت کیا گیا تھا۔ ترجمان سے پوچھا گیا تھا کہ افغانستان کے عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے ماضی میں پاکستانی پاسپورٹ استعمال کیا تھا؟

دوسری جانب وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا تھا افغان رہنماوں کو یہ پاسپورٹ پاکستان کے مختلف شہروں سے جاری کیے گئے تھے۔ یہ شہر کے پی کے، پنجاب، بلوچستان اور سندھ سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم بعد ازاں پاکستان میں جعلی پاسپورٹ جاری کیے جانے پر گرفتاریاں کی گئی تھیں اور متعلقہ افراد کو ملازمت سے بھی ریٹائر کر دیا گیا تھا۔

اس بارے میں دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ' میرے پاس حقائق نہیں ہیں۔ میں نے ایک اخباری رپورٹ ضرور دیکھی ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے میں اس بارے میں کچھ زیادہ معلومات ملنے پر کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں آجاؤں۔'

سراج الدین حقانی کا نام ایک نوجوان کمانڈر کے طور پراس وقت نمایاں ہو کر سامنے آیا جب 2008 میں افغانستان میں امریکی فوج پر ایک بہت تباہ کن حملہ کیا گیا۔ اس طالبان کمانڈر کے چہرے سے لوگوں کو پہلی بار مارچ 2022 میں اس وقت شناسائی ہوئی جب وہ کابل میں پولیس کی پاس آؤٹ پریڈ میں بطور وزیر سامنے آئے۔

طالبان کے افغانستان پر اگست 2021 میں کنٹرول کے بعد یہ افغان پولیس کا پہلا بیج تھا جو پاس آؤٹ ہوا تھا۔ واضح رہے امریکہ پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام بھی لگاتا رہا اور پاکستان کی مدد سے طالبان کے ساتھ رابطوں کا بھی خواستگار رہ ہے۔

لیکن یہ پاسپورٹس والا معاملہ کئی سال پہلے کا جاری شدہ تھا ۔دفترخارجہ نے اب اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو افغانیوں سے متعلق ایک فہرست بھی موصول ہوئی ہے جنہیں وہ پاکستان سے امریکہ واپس منگوانا چاہتا ہے۔

امریکہ اور پاکستان دونوں کا اس سلسلے میں باہم رابطہ ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے اس طرح کی کوششوں کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا تھا۔ لیکن اب دوطرفہ رابطے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں