پاکستانی سردیوں کی 'دھڑکن' مونگ پھلی اور مہنگائی کا 'دردِ دل'!

دیگر میوہ جات کی نسبت مونگ پھلی ارزاں ہے مگر مہنگائی نے اسے خریدنا بھی مشکل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

عبدالحکیم گلگتی نے سامنے رکھی ایک بڑی بوری سے ایک فولادی بیلچے کی مدد سے ڈھیر ساری مونگ پھلی نکالی اور ایک پلاسٹک کے تھیلے میں بھر کر ایک شوقین گاہک کے حوالے کر دی۔

یہ منظر پاکستانی شہر راولپنڈی کے مشہور گنج منڈی بازار کا ہے جہاں دیگر بازاروں کی طرح موسم سرما کے مہینوں میں گاہک بڑی تعداد میں مونگ پھلی خریدنے آتے ہیں جو چھلکے کے ساتھ یا اس کے بغیر اور ساتھ ہی سادہ، بھنا ہوئی یا نمکین ذائقے میں بھی دستیاب ہوتی ہے۔

مونگ پھلی ضروری غذائی اجزاء بشمول پروٹین، فائبر، صحت بخش چکنائی، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے۔ اور سردیوں کے دوران جب جسم کو گرم رکھنے کے لیے اضافی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے تو غذائیت کی کثافت کی بنا پر مونگ پھلی کھانے کا ایک قیمتی انتخاب بن جاتی ہے۔

گنج منڈی میں ٹریڈ یونین کے سربراہ کے ساتھ ساتھ مونگ پھلی کی پروسیسنگ یونٹس کے مالکان کے مطابق موسم گرما میں مونگ پھلی کی کوئی خاص فروخت نہیں ہوتی۔

گلگتی نے اپنے سٹال پر گاہکوں کی خدمت کرتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا، "عام آدمی زیادہ تر سردیوں میں مونگ پھلی خریدتا ہے۔ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں وہ [زیادہ مہنگے خشک میوہ جات مثلاً] چلغوزہ، پستہ اور کاجو خریدتے ہیں۔"

گاہک محمد شاہد بیگ نے گنج منڈی بازار میں اپنی ہتھیلی پر مونگ پھلی کے چند دانے نکالتے ہوئے کہا، "یہ میوہ نہ صرف سستا بلکہ موسمِ سرما میں بچوں کا پسندیدہ بھی ہے۔ یہ سردیوں کا ایک خاص تحفہ ہے اور اگرچہ [ہمارے پاس] گھر میں خشک میوہ موجود ہے لیکن مونگ پھلی مختلف ہے۔"

4 دسمبر 2023 کو راولپنڈی، پاکستان کی ایک مارکیٹ میں مختلف اقسام کی مونگ پھلی۔ (اے این)
4 دسمبر 2023 کو راولپنڈی، پاکستان کی ایک مارکیٹ میں مختلف اقسام کی مونگ پھلی۔ (اے این)

ایک فرق یہ ہے کہ مونگ پھلی دیگر گری دار میوہ جات کے مقابلے بہت سستی ہے جس کی فی کلو قیمت 600 سے 800 روپے کے درمیان ہے۔

بیگ نے مزید کہا، "میں اس مارکیٹ میں خاص طور پر مناسب قیمتوں اور تازہ معیار کی وجہ سے آیا ہوں۔"

ایک اور گاہک شہباز احمد نے کہا، مونگ پھلی صرف ایک میوہ نہیں بلکہ پاکستانی سردیوں کا "گرم تحفہ" ہے بالخصوص رات کے کھانے کے بعد خاندان کے ساتھ حسین قیمتی لمحات گذارنے کے لیے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "مونگ پھلی ہمارے خاندان کے لیے موسمِ سرما کی دھڑکن ہے۔ جب ہم جمع ہوتے ہیں تو ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی گرمجوشی نہ صرف ہر رکن کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہے بلکہ ہمیں ایک ساتھ اچھا خاندانی وقت گذارنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔"

پاکستان کی وزارت برائے تحفظِ خوراک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2021-2022 کے درمیان 0.37 ملین ایکڑ اراضی پر 144,000 ٹن مونگ پھلی کی پیداوار ہوئی جس کی نمو گذشتہ پانچ سالوں میں 68 فیصد رہی۔ یہ بنیادی طور پر کاشت شدہ زمینوں میں توسیع اور مشکل معاشی حالات کے درمیان کسانوں کی زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف منتقلی کی وجہ سے ہوا۔

پاکستان کا گنجان آباد ترین صوبہ پنجاب مونگ پھلی کی پیداوار میں غالب ہے جس کا ملک کی کل پیداوار میں تقریباً 95 فیصد حصہ ہے۔

راولپنڈی میں مونگ پھلی کے پروسیسنگ یونٹ کے مالک محمد عثمان نے کہا، وہ ہر سال ستمبر میں مونگ پھلی کی پروسیسنگ شروع کر دیتے ہیں اور یہ مارچ تک جاری رہتا ہے۔

عثمان جو شمال مغربی پاکستان کے قصبے پاراچنار، سکھر کے جنوبی علاقے اور پنجاب میں جھنگ کے چند علاقوں سے بھی مونگ پھلی حاصل کرتے ہیں، نے کہا: "ہم مونگ پھلی کی چار سے پانچ اقسام کا سودا کرتے ہیں جن میں سے ایک بہترین قسم گوجر خان میں پیدا ہوتی ہے۔"

انہوں نے کہا، ملک بھر کے دیہاتوں اور زیادہ تر شمالی آزاد کشمیر کے علاقے سے لوگ سردیوں کے دوران عثمان کے پروسیسنگ یونٹ میں کام کرنے کے لیے آتے ہیں جہاں مونگ پھلی کو ہاتھ اور مشین سے بھوننے کا کام ہوتا ہے۔

عثمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "روایتی دستی طریقہ جو صدیوں سے موجود ہے، اس کے نتیجے میں مشینی طریقے کی نسبت زیادہ اعلیٰ ذائقہ ملتا ہے۔"

مونگ پھلی کے پروسیسر نے مزید کہا، لیکن مہنگائی جو اس سال ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی ہے اور اب بھی 30 فیصد کی حد میں ہے، اس نے موسمِ سرما میں صارفین کے شوق کو متأثر کرنے کے ساتھ تاجروں کی پریشانیوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔

عثمان نے کہا، "آج کل مہنگائی بہت زیادہ ہے۔ مونگ پھلی اس طرح فروخت نہیں ہو رہی جس طرح پہلے ہوتی تھی۔ اب مونگ پھلی بھی ہر کسی کے لیے قابلِ خرید نہیں، یہ بھی مہنگی ہو گئی ہے۔ گوجر خان کی مونگ پھلی کی قیمت 800 روپے فی کلو ($2.81) ہے۔ اسی طرح پاراچنار کی [مونگ پھلی] بھی مہنگی ہے۔"

مونگ پھلی کی پروسیسنگ کے مالک محمد عثمان 8 دسمبر 2023 کو راولپنڈی، پاکستان میں پاراچنار کی مونگ پھلی دکھا رہے ہیں۔ (اے این)
مونگ پھلی کی پروسیسنگ کے مالک محمد عثمان 8 دسمبر 2023 کو راولپنڈی، پاکستان میں پاراچنار کی مونگ پھلی دکھا رہے ہیں۔ (اے این)

محمد بلال خان جو گنج منڈی بازار میں خشک میوہ جات فروخت کرتے ہیں، نے کہا۔ مقامی اور خاص طور پر بیرونِ ملک سفر کرنے والے لوگ ہر سال سردیوں میں دوستوں اور خاندان کے لیے تحفے کے طور پر مونگ پھلی خریدنے آتے ہیں۔ اس سال البتہ گاہک بھی کم تھے اور فروخت بھی۔

خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "اس سال قیمتیں پہلے سے زیادہ ہیں اور زیادہ مہنگائی اور قوتِ خرید میں کمی کی وجہ سے فروخت نسبتاً کم ہے۔ خشک میوہ جات تو کیا، اس وقت عام آدمی سبزی نہیں خرید سکتا۔"

اسلام آباد میں ایک خوانچے سے مونگ پھلی خریدنے والے ایک گاہک محمد رمضان نے کہا، "مہنگائی کی وجہ سے مونگ پھلی جیسی سادہ چیز کو خریدنا بھی گویا "دردِ دل" محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "میں اس سیزن میں پہلی بار اپنے بچوں کے مسلسل مطالبے پر خریدنے آیا ہوں۔"

"لیکن یہ صرف ہمارے بجٹ کو مشکل نہیں کر رہا بلکہ یہ وہ سکون بھی چھین رہا ہے جو ہمیں سردیوں کے ان مختصر لمحات میں ملتا تھا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں