ملک کو یہاں تک پہنچانے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے: نواز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ پتہ لگنا چاہیے کہ 93ء اور 99ء میں مجھے کیوں نکالا گیا؟ کچھ ایسے عناصر آئے جنہوں نے دوڑتے پاکستان کو ٹھپ کر کے رکھ دیا۔

لاہور میں ن لیگ کے پارٹی ٹکٹ کے امیدواروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہم نظروں سے اوجھل لیکن دل کے بہت قریب رہے ہیں، اپنے کسی دوست اور ساتھی کو بھولا نہیں ہمیشہ یاد رکھا، آج بھی دعا ہے کہ اللہ اس قوم کو مشکلات سے نکالے۔

انہوں نے کہا کہ قوم نے پچھلے چار سال بہت مشکل دور دیکھا، ہمارے دور میں معیشت بہتر اور ترقی عروج پر تھی اور ہمارے دور میں ہر لحاظ سے معاشرہ آگے بڑھ رہا تھا لیکن کچھ کردار ایسے آئے جنہوں نے دوڑتے پاکستان کو ٹھپ کرکے رکھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ قوم ادراک کرے معاشی بے نظمی 2019 سے شروع ہوئی اور 2022 تک ملک میں ہرچیز کا بھٹا بیٹھ گیا تھا، 2013 سے 2017 تک ہمارے دور میں ملک ترقی کر رہا تھا۔ اچھے بھلے لوگوں کو نکال کر ملک اناڑی کے حوالے کیا گیا جب کرنسی غیر مستحکم ہوتی ہے تو ہر چیز غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہر دفعہ ہم نے اچھے اچھے کام کیے لیکن ہر دفعہ ہمیں نکال دیا گیا، مجھے پتا لگنا چاہیے کہ 93 اور 99 میں مجھے کیوں نکالا گیا، ہم نے کہا کہ کارگل لڑائی نہیں ہونی چاہیے تھی کیا اس لیے نکالا گیا۔

’’وقت ثابت کررہا ہے کہ ہم صحیح تھے وہ فیصلہ بھی ہمارا صحیح تھا، ملک کی بات آتی ہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹتے، ہم نے ایٹمی دھماکے کیے اور پاکستان مضبوط ہوگیا، آج کسی کی جرات نہیں کہ پاکستان پر چڑھ دوڑے یا میلی آنکھ سے دیکھے، ہم نے معاشی، دفاع اور خارجہ ہر فرنٹ پر کارکردگی دکھائی۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا ہمارے دور میں بھارت کے دو وزیراعظم مودی اور واجپائی پاکستان آئے، اب ہمیں اپنے معاملات بھارت اور افغانستان کے ساتھ بھی ٹھیک کرنے ہیں، ہمیں اپنے معاملات ایران اور چین کے ساتھ بھی مزید بہتر کرنے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں