پانچ سالوں میں ٹیکسٹائل برآمدات کو 50 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وفاقی وزارت تجارت نے ٹیکسٹائل کے شعبہ کو ترقی دینے کے لیے اقداات اٹھانے کے ساتھ ساتھ مصنوعات کو فروغ دینےکے لیے ایک بڑی ایکسپو کا اہتمام کرے گا جس سے امید ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں ملکی برآمدات 50 ارب ڈالر تک بڑھ سکیں گی۔

نگران حکومت نے ملکی برآمدات کو طویل مدت کے دوران 100ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ ملکی معیشت کو بحرانی کیفیت سے نکالا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے نجی شعبے کی شرکت سے ایکسپورٹ ایڈوائزری کونسل کا قیام عمل لایا گیا ہے جو کہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد ملکی برآمدات خاص طور پر ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ میں اضافہ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستان کی برآمدات 39.42 ارب ڈالر رہی تھی جو 2021 کے مقابلے میں 24.94 فیصد زیادہ ہے۔

ملک کی ایکسپورٹ ایڈوائزری کونسل کا افتتاحی اجلاس گزشتہ روز وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز کی زیر صدارت ہوا جس میں پاکستانی برآمدات کو بڑھانے اور انہیں مزید مسابقتی بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے قومی آمدنی کو بڑھانے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے میں برآمدات کی بڑھوتری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط برآمدی حکمت عملی ممکنہ طور پر قرضوں کے بوجھ کو کم کر سکتی ہے جس سے معیشت مضبوط ہو سکتی ہے اور عالمی منڈی میں پاکستان کو مسابقتی کاروباری ماحول مل سکتا ہے۔ اس پس منظر میں وسیع تر ایجنڈے کے طور پر، کونسل نے اگلے پانچ سالوں میں ملکی برآمدات کو 50 ارب ڈالر تک بڑھانے کی تجاویز پر بھی غور کیا۔

نگران وزیر نے تسلیم کیا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر نے روایتی طور پر ملک کی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ڈالا ہے، تاہم یہ اب بھی اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم سطح پر کام کر رہا ہے۔ قومی ٹیکسٹائل کے شعبے کی استعداد کار اور کاروباری مواقع بڑھانے کے لیے کونسل نے ٹیکسٹائل ایکسپو کے انعقاد پر تبادلہ خیال کیا۔

اعجاز گوہر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات مشترکہ کوششوں اور سٹریٹجک اقدامات کے ذریعے 50 ارب ڈالر تک پہنچانے سے ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے اور یہ اس سے ملک کی کل لیبر فورس کا 40-45 فیصد کو ملازمت کے مواقع میسر آتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادائیگیوں کے توازن کے مسئلے کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقی کی ضرورت ہے۔نگران وزیر نے پاکستان کی مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈٰ پی) کو ایک کھرب ڈالر تک بڑھنے پر زور دیا جس سے اوسط فی کس آمدنی تین گنا بڑھائی جاسکتی ہے۔

وزارت تجارت نے ممتاز شخصیات پر مشتمل نئی کونسل کو آگاہ کیا کہ حکومت برآمدی شعبے کو درپیش اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں