عکسریت پسندوں کے حملے میں دوبچوں کی بہادر ماں کی تعریف جس نے مشکل وقت میں ہمت نہ ہاری

بی بی روشن کو چھے گولیاں لگیں، زندگی داؤ پر لگا کر بچوں کو بچا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک ماں نے گذشتہ ہفتے عسکریت پسندوں کے بس پر حملے کے دوران اپنے بچوں کے اوپر لیٹ کر ان کی جان بچائی۔ چھے گولیاں کھانے والی بہادر ماں اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہے جس کے شوہر نے ہفتے کے روز کہا، مجھےاپنی بہادر بیوی پر فخر ہے جو حملے میں گولیوں سے شدید زخمی ہونے کے باوجود بچوں کی حفاظت کے لیے پکارتی رہی۔

یہ المناک حادثہ 2 دسمبر کو پیش آیا جب 35 سالہ بلبل شاہ اپنی اہلیہ بی بی روشن اور دو بچوں عمائمہ اور ارسلان کے ہمراہ گلگت بلتستان میں اپنے آبائی شہر غذر سے کراچی جانے کے لیے ایک بس میں سوار ہوئے۔ وہ کراچی جا کر نئی زندگی شروع کرنے کی امید رکھتے تھے۔

نئے شہر کے سفر کی دھوم دھام کے درمیان یہ خوش گمان خاندان اندازہ نہ لگا سکا کہ وہ ایک ہفتے بعد خود کو کراچی کے ہسپتال میں پائے گا۔ شمالی قصبے چلاس کو عبور کرنے کے فوراً بعد انہیں ایک دردناک تجربے سے گذرنا پڑا جو ماضی میں عسکریت پسندوں کے تشدد کا مشاہدہ کر چکا ہے۔

تقریباً 45 مسافروں کو لے جانے والی بس پر خودکار ہتھیاروں سے لیس مسلح افراد نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ شاہ جو وقوعے کے وقت اپنی بیٹی کو گود میں بٹھائے ہوئے سو گئے تھے، نے بتایا کہ ان کی 28 سالہ بیوی نے انہیں سیٹ سے دھکا دیا اور چلتی ہوئی گولیوں کے درمیان دونوں بچوں کو اس سیٹ کے نیچے چھپا دیا۔

شاہ نے کراچی کے ایک ہسپتال کے باہر عرب نیوز کو بتایا جہاں ان کی اہلیہ کو علاج کے لیے لایا گیا تھا۔ "چھ گولیاں لگنے کے باوجود وہ کہہ رہی تھی کہ اسے کچھ نہیں ہوا۔ وہ صرف ہمارے بچوں کو بچانے کا سوچ رہی تھی۔ اس کے اس جذبے پر مجھے فخر ہے۔"

ڈرائیور نے گولیوں کی زد میں آکر تیز رفتاری سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن اسے بھی گولی لگی۔ بس پہاڑی علاقے میں ایک ڈھلوان سے خود ہی نیچے اتر گئی۔ شاہ نے یاد کیا کہ بدترین حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے کس طرح پورا خاندان ایک افراتفری کا شکار ہو گیا لیکن بس ایک ٹرک سے ٹکرانے کے بعد رک گئی۔

انہوں نے کہا کہ ٹرک اور بس کے تصادم کے بعد حملہ آور ممکنہ طور پر یہ سوچ کر فرار ہو گئے کہ بس میں آگ لگ جائے گی۔

انہوں نے بات کو جاری رکھا۔ "اس نے کہا، 'بچوں کو بچاؤ۔' وہ چلاتی رہی، 'چھوڑو مجھے، مجھے کچھ نہیں ہوگا، بس بچوں کو بچا لو'۔"

بس کے رکنے کے بعد ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کی بیوی کو کئی گولیاں لگی تھیں اور وہ اپنے جسم کے نچلے حصے کو حرکت دینے سے قاصر تھیں۔ ہسپتال لے جانے کے دوران بھی روشن نے کبھی ہوش نہیں کھویا۔

شاہ نے یاد کیا۔ "وہ بچوں کا پوچھ رہی تھی۔ مجھ سے کہہ رہی تھی کہ ان کا خیال رکھوں۔"

انہوں نے کہا کہ جس صورتِ حال کا ان کے خاندان کو تجربہ ہوا، اس کا سامنا کرنا آسان نہیں تھا۔

"ایسے حالات میں آپ کے ذہن میں ہزاروں خیالات آتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں کہ اگر آپ کو گولی لگ گئی تو بچوں کا کیا بنے گا۔ یا اگر بچوں کو آپ کے سامنے گولی لگ جائے تو آپ کیسا محسوس کریں گے۔

شاہ نے چلاس کے مقامی لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو خون کا عطیہ دینے کے لیے ہسپتال پہنچے اور زخمیوں کو پرائیویٹ گاڑیوں میں علاج کے لیے پہنچایا۔

انہوں نے ہنگامی حالات سے مؤثر انداز میں نمٹنے پر ڈاکٹروں کی تعریف کی، ان کے اہلِ خانہ کو راولپنڈی لے جانے کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے پر فوج کی تعریف کی اور روشن کو کراچی لے جانے کے لیے طیارے کا انتظام کرنے پر بلوچستان انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا۔ "میں ہمیشہ جانتا تھا وہ بہادر ہے اور ہمت سے کام لے گی۔ مجھے اس پر بے حد فخر ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں