پاکستانی کاروباری شخصیت پائیدار مستقبل کے لیے اختراعی سوچ اپنانے کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانوی ایوارڈ یافتہ پاکستانی شخصیت پائیدار مستقبل کے لیے اختراعی طریقہ کاراپناتے ہوئے موثرسرمایہ کاری (امپیکٹ انویسٹمنٹ) اور موسمیاتی تلقین و وکالت (کلائمیٹ ایڈووکیسی) متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

موثر سرمایہ کاری سے مراد مالی منافع کے ساتھ ساتھ قابل پیمائش اور فائدہ مند سماجی یا ماحولیاتی اثرات پیدا کرنے کے لیے فنڈز کا استعمال ہے۔ جب کہ موسمیاتی تبدیلی کی تلقین یا وکالت سے مراد عوامی سطح پر وسائل کے پائیدار استعمال کی حمایت کرنا اور مقامی کمیونٹیز میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر ماحول دوست پالیسی تشکیل دینا ہے۔

برطانیہ کی حکومت مطابق شہزادہ ولیم نے نومبر میں ونڈسر کیسل میں ایک تقریب کے دوران فراز خان کو برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں باوقار ایم بی ای ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ خان ایک ٹیکنالوجی، ڈیٹا، اور مشاورتی فرم SpectrEco کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پارٹنر ہیں جو پائیداراقتصادی اور سماجی ترقی اور گورننس کی بہتری کی طرف آسان اور تریز تر پیش قدمی کے لیے کام کرتی ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ میں پیدا ہونے والے فراز خان خان نے 1998-2000 سیشن میں برطانیہ کی لنکن ان یونیورسٹی سے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کی ڈگری مکمل کرنے سے پہلے کراچی یونیورسٹی سے بیچلر آف کامرس کی ڈگری حاصل کی۔

فراز کے مطابق، ان کے پاس متنوع اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اقتصادی و سماجی ترقی اور گورننس پالیسی، اور مؤثر ترقی جیسے شعبوں میں 2 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ وہ سوشل، انٹرپرینیورشپ اینڈ ایکویٹی ڈویلپمنٹ (SEED) وینچرز کے بانی اور ڈائریکٹر بھی ہیں، جو کہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سرمایہ کاری اور موثر ترقی کے لیے کام کرنے کے لیے بنائی گئی تنظیم ہے۔

انکے لنکڈ ان پروفائل کے مطابق، فراز خان نے اس گروپ کو ایک پائیدار تنظیم میں تبدیل کر دیا ہے، جس نے گزشتہ دہائی کے دوران SEED اور اس کی پورٹ فولیو کمپنیوں کے لیے 40 ملین ڈالر کا کاروبار کیا ہے۔

دبئی میں مقیم فراز نے عرب نیوز کو فون پر MBE ایوارڈ کے بارے میں کہاکہ وہ اس اعزاز کو باہمی تعاون کے موقع اور شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ایک محرک کے طور پر دیکھتے ہیں جو برطانیہ اور پاکستان دونوں ممالک کی پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایم بی ای ایوارڈ ملنے سے اقتصادی و سماجی ترقی اور گورننس کے شعبوں میں باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے اور ماحولیاتی آلودگی کی وکالت میں ان کی کوششوں کے مثبت اثرات کو اجاگر کرنےمیں مدد ملی۔

مقبول خبریں اہم خبریں