کراچی کا ریستوران، کھانے کے شوقین اور کڑاہی سے نکلے گرما گرم چپلی کبابوں کی لذت

چھوٹے یا بڑے گوشت سے بننے والا پشتون پکوان افغانستان اور پاکستان میں یکساں مقبول ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عبدالواحد کُٹے ہوئے گوشت، مکئی کے آٹے اور مصالحہ جات کے مرکب سے بنا ایک گول کباب اپنے سامنے رکھی گرم ابلتے گھی سے بھری کڑاہی میں ڈال رہے ہیں۔ تقریباً دو منٹ بعد ان کا مددگار تیار شدہ کبابوں کو پلیٹ میں نکال دیتا ہے جبکہ ایک بیرہ کراچی کے اس مصروف ریستوران میں قطار میں کھڑے شوقین گاہکوں سے آرڈرز لینے کے لیے موجود ہے۔

یہ وہ منظر ہے جو پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے اے ون ریستوران میں سردیوں کے موسم میں تقریباً ہر رات دیکھنے کو ملتا ہے۔ پررونق شہر کے شاہ فیصل کالونی کے علاقے میں واقع یہ ریستوران چپلی کباب پیش کرتا ہے۔ یہ وہ مقبول پکوان ہے جو سڑک کے کنارے اسٹینڈز، نشستی ریستورانوں اور گھروں بالخصوص شمال مغربی پاکستان اور افغانستان میں بنایا جاتا ہے۔

چپلی کباب گوشت کی کچوریاں ہوتی ہیں جو جانوروں کی چربی یا تیل کی خاصی مقدار میں تل کر بنائی جاتی ہیں۔ کباب زیادہ تر گائے یا بکرے کے گوشت سے اور سفید زیرہ، اجوائن، خشک دھنیا، انار کے بیج، نمک، ہری مرچ اور ٹماٹر کے مرکب کے ساتھ بنائے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ ریستوران چکن کڑاہی، بریانی اور مچھلی جیسے کئی مشہور کھانے پیش کرتا ہے لیکن کراچی میں اے ون نے گذشتہ برسوں میں اپنے چپلی کبابوں کے لیے شہرت حاصل کی ہے۔

عبدالواحد نے عرب نیوز کو بتایا، "یہ چپلی کباب کے لیے مشہور ہے جو ہماری بنیادی خاصیت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سالوں کے دوران بعد میں فہرستِ طعام میں اضافی کھانے متعارف کروائے گئے۔

اب اس نے ایک بڑی جگہ گھیر رکھی ہے لیکن 80 کے عشرے میں جب یہ ریستوران شروع ہوا تو ایک چھوٹی سی دکان ہوا کرتا تھا۔

ریستوران کے مینیجر گل محمد خان نے عرب نیوز کو بتایا، "ہمارے حاجی گوہر رحمٰن صاحب نے ایک چھوٹی سی دکان سے ابتدا کی۔ سب سے پہلے [کامیابی کا سب سے بڑا عنصر] اللہ کا فضل ہے، پھر ان کی ایمانداری اور پھر محنت نے ہمیں پشاوری چپلی کبابوں کا ایک پورا کمپلیکس دیا۔"

خان نے کہا کہ ریستوران کے اولین شیف 95 سالہ سعید خان پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور سے مقبول اصلی چپلی کباب کی ترکیب لائے تھے۔

انہوں نے مزید کہا۔ "یہ ہماری اصل ترکیب ہے؛ یہ پشاوری ہے۔"

موجودہ شیف عبدالواحد نے کہا ہمارے چپلی کباب کو خورونوش کی دیگر جگہوں پر پیش کیے جانے والے کبابوں سے جو چیز ممتاز کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اعلیٰ قسم کے گوشت سے بنائے جاتے ہیں۔

عبدالواحد نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم صرف ران کا گوشت استعمال کرتے ہیں۔ اعلیٰ معیار کا اور صحت بخش گوشت۔ یہی وجہ ہے کہ جس معیار کے ساتھ ہم نے شروعات کی تھی وہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔"

روایتی طور پر یہ پکوان پاکستان کی پشتون برادری سے وابستہ ہے، اس کے باوجود مختلف قوم قبیلے کے لوگ ریستوران میں چپلی کباب کھانے آتے ہیں اور اس کے مستند ذائقے کی تعریف کرتے ہیں۔

منیجر گل محمد خان نے عرب نیوز کو بتایا، "ہر برادری کے لوگ کھاتے ہیں۔ ان کے دوست انہیں ایک نئے ذائقے سے متعارف کرانے کے لیے خاص طور پر یہاں لاتے ہیں اور جو لوگ کھاتے ہیں، واقعی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔"

اکثر یہاں آنے والے زاہد جمال نے اس ہفتے کے آخر میں اپنی بیٹی صفیہ کی سالگرہ منانے کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا۔

جمال نے عرب نیوز کو بتایا، "آج میری بیٹی صفیہ کی سالگرہ ہے اس لیے ہم نے رات کے کھانے کے لیے باہر جانے کا سوچا۔ ہم نے اے ون جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کے چپلی کباب بہت مشہور ہیں۔ اس لیے ہم یہاں آ گئے اور کھانے کا لطف اٹھایا. یہ بہت عمدہ تھا۔"

ایک اور باقاعدہ گاہک ایمن اعظم نے کہا وہ دبئی میں اپنے بھائی کو باقاعدگی سے کبابوں کا تیارشدہ کچا مرکب بھیجتی ہیں۔

اعظم نے عرب نیوز کو بتایا، "گذشتہ مہینے میں نے دبئی میں اپنے بھائی کو کچھ کچے چپلی کباب بھیجے۔ میں نے اسے تقریباً 6 کلو گرام کچے کباب بھیجے اور اس نے وہاں اپنے دوستوں کے ساتھ کھائے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں