راولپنڈی کا مشہور دلبر ہوٹل، پاکستان میں کشمیر کا حقیقی ذائقہ

1947 میں کھلنے والا چائے کیفے 1950 میں مستند کشمیری پکوانوں کا ریستوران بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

تنگ گلیوں کی بھول بھلیوں میں واقع دلبر ہوٹل خور و نوش کا ایک منفرد مقام ہے: یہ جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں غالباً بلکہ ممکنہ طور پر پاکستان بھر میں شاید واحد جگہ ہے جہاں لوگ کشمیر کی وادئ ہمالیہ کے کھانوں کے حقیقی ذائقے اور فراوانی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

1947 میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے سے قیامِ پاکستان کے بعد راولپنڈی میں ایک عاجزانہ چائے کیفے کے طور پر دلبر ہوٹل قائم ہوا۔ تب سے یہ ایک مشہور ریسٹورنٹ میں تبدیل ہو گیا جو مستند کشمیری کھانوں سے اپنے گاہکوں کی تواضع کر رہا ہے جن میں مقامی لوگ، کھانے کے شوقین اور سیاستدان شامل ہیں۔

ملک جمال کے بیٹے ملک اسلم پرویز جو اب ریسٹورنٹ چلاتے ہیں، کے مطابق مالکان ملک جمال اور ان کے بھائی تقسیمِ ہند کے دوران کپواڑہ سے پاکستان ہجرت کر آئے جو موجودہ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہے۔ دونوں بھائیوں نے راولپنڈی میں آباد کشمیری تارکینِ وطن کو ایک "سماجی مقام" فراہم کرنے کے لیے چائے کیفے کا آغاز کیا۔

1950 تک یہ چھوٹا سا کیفے مہاجر کمیونٹی کے ساتھ ساتھ فوجی مرکز کے حامل شہر کے مقامی باشندوں میں اتنا مقبول ہو چکا تھا کہ مالکان نے اپنے مینو کو کچھ متنوع بنانے اور اس میں چند مشہور اور اہم کشمیری پکوان شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت یہ دلبر ہوٹل بن گیا جو آج ہے یعنی راولپنڈی اور اسلام آباد میں کشمیری کھانوں کا ایک بڑا مرکز جہاں دیگر پکوانوں کے ساتھ ٹماٹر کی چکنائی دار چٹنی میں تیز مصالحہ جات کے ساتھ میمنے کے گوشت کا سالن 'روغن جوش'، ایک چھوٹے گوشت کا سالن اور کشمیر سے موسمِ سرما کی ایک مستند ڈش 'ہریسہ'، اور ملائی دار، ترش، تقریباً شوربے دار، دہی کی چٹنی میں پکی ہوئے کوفتے 'گشتابہ' پیش کیے جاتے ہیں۔

ایک مسلم اکثریتی ہمالیائی خطہ کشمیر 1947 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہے جس پر دونوں ممالک مکمل دعویٰ کرتے ہیں لیکن یہاں ان کی حکومت جزوی ہے۔ خطے کا منفرد کھانا تاہم دونوں ممالک میں پایا جاتا ہے۔

61 سالہ پرویز نے راولپنڈی کے سرپرست بزرگ شاہ چن چراغ کے مزار کے قریب راجہ بازار میں واقع دلبر ہوٹل میں عرب نیوز کو بتایا، "میرے والد کپواڑہ سے ہجرت کر آئے تھے اور ہم جو پکوان پیش کرتے ہیں، وہی ہیں جو یہاں 1950 میں متعارف کرائے گئے تھے۔"

"تراکیب، ذائقے اور مصالحہ جات کی اصلیت کو برقرار رکھتے ہوئے ہم نے 75 سالوں سے کھانے کے ذریعے کشمیر کے ورثے کو محفوظ کیا ہے۔"

دلبر ہوٹل کے مالک ملک اسلم پرویز (دائیں) 5 دسمبر 2023 کو راولپنڈی، پاکستان میں اپنے کچن میں کھانا بناتے ہوئے گاہکوں سے بات کر رہے ہیں۔ (اے این)
دلبر ہوٹل کے مالک ملک اسلم پرویز (دائیں) 5 دسمبر 2023 کو راولپنڈی، پاکستان میں اپنے کچن میں کھانا بناتے ہوئے گاہکوں سے بات کر رہے ہیں۔ (اے این)

ریستوران میں پیش کیے جانے والے روایتی کشمیری کھانوں کے ذائقے کے راز کے بارے میں سوال پر پرویز نے کہا کہ انہوں نے ہر ایک نسخہ اپنے والد سے بچپن میں سیکھا تھا اور ہر ڈش نسل در نسل منتقل ہوتے رہنے کی وجہ سے "مستند طور پر" محفوظ رہی۔"

انہوں نے کہا، "میں اپنے والد کے ساتھ [ہوٹل میں] بیٹھا کرتا تھا۔ میں تقریباً 12 سال کا تھا جب میں نے یہاں ان کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا۔"

"یہ تراکیب، ذائقہ، مصالحہ جات، یہ سب ہمارے خاندان میں، ہمارے دلوں میں محفوظ ہیں۔ اور گذشتہ 75-76 سالوں سے وہی ہیں۔ ہم نے ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔"

پرویز نے کہا، تمام پکوان روایتی طریقوں سے اور پیک شدہ مصالحہ جات یا پراسیسڈ غذائی اشیاء کو شامل کیے بغیر تیار کیے جاتے ہیں۔

ایک مستقل گاہک کرامت حسین نے مستند ذائقہ کی تصدیق کی اور کہا وہ ہفتے میں کم از کم ایک بار ریستوران آتے ہیں۔

انہوں نے بالترتیب ایک یخنی اور روایتی کشمیری کوفتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔ "یہاں کی سب سے خاص بات ان کی یخنی اور گشتابہ ہے جسے وہ بخوبی تیار کرتے ہیں۔ ہر کوئی اس کے لیے یہاں آتا ہے۔"

دلبر ہوٹل کے باقاعدہ گاہکوں میں کئی اہم سیاسی شخصیات کا بھی شمار ہوتا ہے۔

اس فائل تصویر میں پاکستان کے تین بار کے سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف (بائیں) دلبر ہوٹل کے مالک ملک اسلم پرویز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: ملک اسلم)
اس فائل تصویر میں پاکستان کے تین بار کے سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف (بائیں) دلبر ہوٹل کے مالک ملک اسلم پرویز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: ملک اسلم)

پرویز نے کہا، "شیخ رشید (راولپنڈی کے معروف سیاستدان) نے اپنا بچپن یہیں گذارا ہے۔ وہ ہمارے کھانے بہت پسند کرتے ہیں۔ پھر [سابق وزیرِاعظم] شاہد خاقان عباسی بھی ہمارے کھانے کے دلدادہ ہیں۔"

"[تین بار کے سابق وزیرِ اعظم] میاں نواز شریف نے بھی یہاں کھانا کھایا ہے۔ [ان کی مرحومہ اہلیہ] بیگم کلثوم بھی یہاں تشریف لائیں۔"

اس غیر تاریخ شدہ فائل تصویر میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی سیاست دان شیخ رشید (دائیں)، دلبر ہوٹل کے مالک ملک اسلم (دائیں طرف سے دوسرے) اور سابق پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی (درمیان) راولپنڈی، پاکستان کے دلبر ہوٹل میں نظر آ رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: ملک اسلم)
اس غیر تاریخ شدہ فائل تصویر میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی سیاست دان شیخ رشید (دائیں)، دلبر ہوٹل کے مالک ملک اسلم (دائیں طرف سے دوسرے) اور سابق پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی (درمیان) راولپنڈی، پاکستان کے دلبر ہوٹل میں نظر آ رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: ملک اسلم)

گاہک کہتے ہیں کہ کئی عشروں کے دوران دلبر ہوٹل راولپنڈی کے خور و نوش کے منظرنامے کا ایک "ناگزیر حصہ" بن گیا ہے جو کشمیر کے ذائقوں اور اس کی گذشتہ نسلوں کی کہانیوں کو یکجا کرتا ہے۔

ایک ریٹائرڈ سرکاری اہلکار وصیر علی قاضی نے یاد کیا جب وہ پہلی بار 1964 میں یہاں کا دورہ کیا تھا۔

قاضی نے دلبر کے بانی اور پرویز کے والد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "جن لوگوں نے [1947 سے پہلے] کشمیر دیکھا تھا، جو اس کے پکوان جانتے تھے، وہ تمام لوگ (کھانے کے لیے) کبھی کہیں اور نہیں گئے۔ وہ سیدھے چاچا کے پاس آتے تھے۔"

"جو روایت، صداقت اور ذائقہ ہمیں یہاں ملتا ہے، وہ آپ کو آج کے جدید کھانوں میں نہیں ملے گا۔ یہاں جو کھانا پیش کیا جاتا ہے وہ کشمیر کے علاوہ پاکستان میں کہیں اور دستیاب نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں