آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی امریکی وزیر دفاع سے ملاقات

جنرل عاصم منیر نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ جے آسٹن اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل سی کیو براؤن سے ملاقاتوں میں سلامتی سے متعلق امور اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر بات چیت کی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ جے آسٹن سے ملاقات کی، جس میں دو طرفہ دفاعی تعاون اور افغانستان سے حالیہ دہشت گرد کارروائیوں پر گفتگو کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پینٹاگان کا دورہ کیا، جہاں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا استقبال کیا۔

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے تفصیلی ملاقات ہوئی، جس میں علاقائی سلامتی کی تازہ صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اس موقع پر افغانستان سے حالیہ دہشت گرد کارروائیوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

یاد رہے 10 دسمبر کو آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر امریکا کے سرکاری دورے پر روانہ ہوئے تھے، بطور آرمی چیف یہ ان کا پہلا دورہ امریکا ہے۔

چیف آرمی سٹاف کا امریکہ کا حالیہ دورہ سٹریجک اہمیت کا حامل ہے، اس دورے کے دوران وہ امریکی عسکری قیادت اور دیگر حکومتی اراکین سے ملاقات بھی کریں گے۔

بطور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا امریکہ کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے جس میں ان کی امریکی فوج اور حکومت کے سینئیر رہنماؤں سے ملاقاتیں طے ہیں۔

ایک معروف امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ ایک ایسے وقت میں واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں جب پاکستان اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات نسبتاً مستحکم اور بحران سے پاک ہیں، لیکن مستقبل غیر یقینی ہے۔

میگزین کے ایک مضمون میں لکھا گیا کہ 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد سے واشنگٹن اور اسلام آباد اپنی شراکت کے لیے نئے زوایے تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تقریباً 13 ماہ قبل آرمی چیف کا منصب سنھبالنے کے بعد جنرل عاصم منیر کی اعلٰی امریکی کمانڈروں کے دورہ پاکستان کے دوران ملاقاتیں ہو چکی ہیں جبکہ ٹیلی فون پر وہ امریکی وزیر دفاع آسٹن سے تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ دورہ امریکہ کے دوران پاکستانی فوج کے سربراہ پڑوسی ملک افغانستان میں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ملک کو لاحق سکیورٹی خطرات پر بھی امریکی حکام سے بات چیت کریں گے۔

رواں ہفتے ہی پاکستان کے شمالی مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں 23 پاکستانی فوجیوں کی جان سے گئے جس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی سے جڑے ایک گروپ تحریک جہاد پاکستان نے قبول کرنے کا دعوی کیا تھا۔

پاکستانی حکومت کے عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت ملک کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اسلام آباد، کابل سے یہ مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ’دہشت گردی‘ کے لیے استعمال نا ہونے دے اور افغانستان میں موجود ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں