شوکت صدیقی برطرفی کیس: آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کو نوٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے جمعے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے برطرف کیے گئے جج شوکت عزیز صدیقی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران انٹیلی جنس ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کے خلاف لگائے الزامات پر جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی نے اکتوبر 2018 میں راولپنڈی بار سے خطاب کے دوران آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ فیض حمید پر عدالتی کام میں مداخلت کے الزامات عائد کیے تھے۔

بطور جج نامناسب رویہ اختیار کرنے پر انہیں آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا گیا تھا۔

جس کے بعد شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی۔

اس کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے جبکہ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عرفان سعادت خان شامل ہیں۔

اس کیس کی کارروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کی گئی۔

جمعے کو کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایک موقعے پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’اس مقدمے میں عدالت کسی بھی فریق کے لیے عدالتی سسٹم کے استعمال کی اجازت نہیں دے گی،‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’اس درخواست کے نتائج بھی ہوں گے۔‘

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’شوکت صدیقی کی عمر 62 سال سے زائد ہو چکی ہے اور وہ اب بحال تو نہیں ہو سکتے البتہ اس پیٹشن کا مقصد ان کی پینشن کی بحالی ہے، تو ہو سکتا ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں