پاکستان سے تنخواہوں اور آمدنی پر ٹیکس بڑھانے کے لیے نہیں کہا: آئی ایم ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مقامی نمائندے نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے کہ قرض دینے والا عالمی ادارہ پاکستان سے تنخواہوں اور کاروباری آمدنی پر ٹیکس بڑھانے اور پیٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد میں اضافہ کرنے کا کہنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

اس سے قبل ایسی میڈیا رپورٹس گردش کر رہی تھیں کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے تنخواہ دار اور کاروباری طبقے کے لیے ٹیکس سلیب کی تعداد موجودہ سات سے کم کر کے چار کرنے کو کہا جس سے متوسط اور اعلیٰ متوسط آمدنی والے گروپ پر ٹیکس کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں اضافے کی بھی اطلاعات ہیں۔

پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ نمائندے ایستھر پیریز روئز نے رائیٹرز کو ایک ای میل میں بتایا، "اس وقت کوئی منصوبہ نہیں ہے۔"

جنوبی ایشیائی ملک نگراں حکومت کے تحت کام کر رہا ہے جب جولائی میں منظور شدہ آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام نے خودمختار قرضوں کے ڈیفالٹ کو روکنے میں مدد کی۔

3 بلین ڈالر کے اسٹینڈ بائی انتظام کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف سے جولائی میں پہلی قسط کے طور پر 1.2 بلین ڈالر موصول ہوئے۔

پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران کا سامنا تھا اس کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بمشکل تین ہفتوں میں کنٹرول شدہ درآمدات تک کم ہو گئے اور ساتھ ہی تاریخی طور پر بلند افراطِ زر اور کرنسی کی قدر میں بے مثال کمی درپیش تھی۔

بیل آؤٹ ڈیل کے تحت آئی ایم ایف نے پاکستان کو مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کو پورا کرنے کے لیے نئے ٹیکس کی مد میں 1.34 بلین ڈالر جمع کرنے کا بھی کہا۔ ان اقدامات نے مئی میں سال بہ سال 38 فیصد مہنگائی کو ہوا دی جو ایشیا میں سب سے زیادہ ہے اور یہ اب بھی 30 فیصد سے اوپر منڈلا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں