کراچی کے موسمِ سرما میں مونگ پھلی اور سردی دونوں کوئٹہ سے آتی ہیں

کراچی کے مختصر موسمِ سرما میں کوئٹہ سے سینکڑوں دکاندار ریڑھیوں پر مونگ پھلی فروخت کرنے آتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گذشتہ ہفتے جب نور علی جلتی ہوئی گرم ریت کی کڑاہی میں مونگ پھلی کو اپنی درانتی کی مدد سے گرم کر رہا تھا تو اس کے گرد ایک ہجوم جمع تھا۔ یہ منظر تھا جنوبی پاکستان کے بندرگاہی شہر کراچی کا جس کی ایک مصروف ترین سڑک پر کھڑی نور علی کی ریڑھی کے چاروں طرف بھنے ہوئے گری دار میوے کی خوشبو پھیلی تھی۔

چنے اور مکئی جیسی دوسری چیزیں بھی فروخت کے لیے موجود ہیں لیکن علی کی ریڑھی میں مونگ پھلی مرکزی حیثیت رکھتی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ کوئٹہ سے سرد سائبیرین ہواؤں کی کراچی آمد کے ساتھ شہر میں سردیوں کا مختصر موسم شروع ہو گیا ہے۔ بیشک آپ کو کراچی میں موسمِ سرما کی آمد کا تب پتا چلتا ہے جب علی جیسے مونگ پھلی فروش سڑکوں اور مرکزی شاہراہوں پر اپنی ریڑھیاں دھکیلتے اور گری دار میوے فروخت کرتے نظر آتے ہیں جو سکول کے بچوں سے لے کر دفتری ملازمین تک ہر ایک کو اخباری کاغذ سے بنے ہوئے کون نما لفافوں میں مونگ پھلی بھر کر دیتے ہیں۔

علی نے شہر کے مالیاتی مرکز آئی آئی چندریگر روڈ پر عرب نیوز کو بتایا، "سردیوں کے موسم میں ہم [کوئٹہ سے] آتے ہیں اور یہ ریڑھی لگاتے ہیں۔ یہ سامان کوئٹہ [صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت] سے آتا ہے اور سردی بھی۔"

علی کے سٹال کے برابر کھڑے ایک گاہک محمد یوسف بلوچ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا، "کراچی کی سردیاں حقیقت میں اس کی اپنی نہیں ہیں۔"

انہوں نے کہا، "جب کوئٹہ سے سرد ہوائیں چلتی ہیں تو یہ مونگ پھلی فروش زیادہ نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کی خوشبو، اس کے پکانے کی خوشبو ہے جو دل کو مائل کرتی ہے۔"

علی جیسے دکاندار سردیوں کے مہینوں میں دوپہر سے لے کر رات گئے تک مونگ پھلی فروخت کرتے ہیں۔

علی نے کہا، "میں دوپہر کو 3 بجے آتا ہوں، پھر رات کے 3 یا 4 بجے تک کھڑا رہتا ہوں۔"

ایک اور دکاندار محمد نسیم نے کہا، "فروخت نومبر میں شروع ہو کر تقریباً تین ماہ تک جاری رہتی ہے۔ جو کراچی کی سردیوں میں بمشکل چند ماہ ہی ہوتے ہیں۔"

انہوں نے کراچی کے صدر بازار میں اپنی ریڑھی کے پاس کھڑے ہوئے کہا، "ہمارا کام سردی سے منسلک ہے۔ جتنی ٹھنڈی ہوا ہو، ہمارا کام اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اس لیے ہم کوئٹہ سے آنے والی ہواؤں کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ جب کوئٹہ کی ہوا چلتی ہے تو ہمارا کام شروع ہو جاتا ہے۔"

جب سردیوں کا موسم ختم ہو جاتا ہے تو کئی مونگ پھلی فروش اپنے گھر واپس بلوچستان چلے جاتے ہیں۔ وہ سال کے بیشتر حصے میں عجیب و غریب کام کرتے اور مونگ پھلی کا سامان خریدتے ہیں۔ دوسرے کراچی میں ورکشاپوں یا سڑک کنارے ریستورانوں اور سٹالز پر کم تنخواہ والی نوکریاں کر لیتے ہیں اور اگلی سردیوں کا انتظار کرتے ہیں۔

موسمیات کے دفتر کے سابق ڈی جی اور ماہرِ موسمیات محمد ریاض نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "کوئٹہ میں سردی کے دوران کراچی میں درجۂ حرارت میں کمی واقع ہو جاتی ہے جس کی وجہ یخ بستہ سائبیرین ہوائیں ہیں جو بلوچستان سے گذر کر کراچی اور ساحلی پٹی تک پہنچتی ہے۔"

گرمیوں کے مہینوں میں شدید سمندری ہوائیں زمین پر ہوا کے کم دباؤ کے نتیجے میں آتی ہیں۔ تاہم سردیوں میں ماحولیاتی دباؤ کا پیٹرن الٹ جاتا ہے جس کے نتیجے میں مغربی موسمی نظام کی وجہ سے موسمِ سرما کی بارشیں ہوتی ہیں۔

ریاض نے کہا، "جب یہ موسمی نظام بلوچستان کے انتہائی جنوب تک پھیلتا ہے تو یہ کراچی اور اردگرد کے علاقوں میں بارش کا موقع فراہم کرتا ہے۔ افغانستان، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے آنے والی سرد ہوائیں کوئٹہ اور بلوچستان کے راستے کراچی پہنچتی ہیں۔ اس لیے ایک عقیدہ ہے کہ کوئٹہ کراچی کے موسم کو متأثر کرتا ہے۔"

اور جوں جوں موسم ٹھنڈا ہوتا ہے، کراچی والے جنوب مغرب سے مشہور مونگ پھلی فروشوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔

25 سال سے نور علی کے گاہک شاہد مصطفی خان جو کم قیمت ہونے کی وجہ سے مونگ پھلی کو دیگر گری دار میوے پر ترجیح دیتے ہیں، نے کہا، "نہ تو موسمِ سرما کراچی کا اپنا ہے اور نہ ہی مونگ پھلی۔"

کراچی میں ایک کلو مونگ پھلی کی قیمت 1,000 روپے ($3.5) سے 1,400 روپے ($4.9) کے درمیان ہے۔ ملک کے دوسرے حصوں میں قیمت مختلف ہوتی ہے۔

گاہک محمد اکرام نے کہا کہ کم قیمت اور گرم مونگ پھلی ایک کامیاب امتزاج ہے۔

کراچی صدر کے علاقے میں نسیم کی ریڑھی پر اکرام نے کہا، "یہ یہاں سستی ہے اور دکانوں سے (خریدیں تو) مہنگی۔ وہ اسے اسی وقت گرما گرم پیش کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں