بلوچ مظاہرین کو گرفتار کیے جانے پرایمنیسٹی انٹرنیشنل کا اظہار مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے ماورائے عدالت قتل کے واقعے پر احتجاج کرنےوالے مظاہرین کو اسلام آباد پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی گرفتار کر لیے جانے کی مذمت کی ہے اور پاکستان کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں رہا کرنے کے علاوہ ان پر لگائے گئے الزامات واپس لیے جائیں۔

بلوچ مظاہرین کو اسلام آباد کی طرف مارچ کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت سے چند روز پہلے یہ احتجاجی مارچ شروع ہوا تھا اور مظاہرین نے صوبہ پنجاب سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچنا تھا۔ مارچ کے شرکاء بالاچ بلوچ کے ماورائے قتل کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

بالاچ بلوچ کو پانچ کلو گرام دھماکہ خیز مواد کے ساتھ گرفتار کیے جانے کا سی ٹی ڈی بلوچستان نے دعویٰ کیا تھا۔ لیکن بعد ازاں اس پر مقدمہ چلانے کے بجائے اسے مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے خلاف تقریباً دو ہفتے تک تربت میں احتجاجی دھرنا دینے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔

احتجاجی مارچ کرنے والوں میں بالاچ بلوچ کے رشتہ دار، عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بالاچ کو ماورائے عدالت قتل کرنے والے سی ٹی ڈی حکام کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں سزا دی جائے لیکن انہیں صوبہ بلوچستان سے صوبہ پنجاب کی حدود میں داخلے پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ان تمام گرفتار کیے گئے مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے نیز پاکستان کے حکام سے کہا ہے کہ ان کے خلاف عائد کیے گئے تمام الزامات واپس لیے جائیں۔

انسانی حقوق کے ادارے نے ماورائے قانون اور ماورائے عدات قتل کے واقعات کے علاوہ جبری گمشدگیوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں