پاکستان کا 'تاریخی سنگ میل'، چین کو خشک مرچوں کی پہلی کھیپ روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے منگل کو خشک مرچوں کی افتتاحی کھیپ کے ساتھ چین کو اپنی زرعی برآمدات میں ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا۔

پاکستان میں تقریباً 150,000 ایکڑ (60,700 ہیکٹر) فارمز سالانہ 143,000 ٹن مرچ پیدا کرتے ہیں جس سے ملک دنیا بھر میں مرچوں کی پیداوار میں چوتھا بڑا ملک بن جاتا ہے۔ ملک کی مرچ کی کل پیداوار میں 88 فیصد حصہ جنوبی صوبہ سندھ کا ہے جو 126 ملین ٹن مرچیں پیدا کرتا ہے ۔

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ چند سالوں میں پاکستان کی خشک سرخ مرچ کی برآمدات میں کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ خشک کرنے کے عمل کے دوران آلودگی ہے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق پاکستان نے 2019 میں 2,751 میٹرک ٹن خشک سرخ مرچیں برآمد کیں جو 2022 میں کم ہو کر 1,665 میٹرک ٹن رہ گئیں۔

وزیرِ تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا، "لیٹونگ فوڈ کمپنی لمیٹڈ [چائنیز فوڈ فرم] کی شاندار کوششوں سے ممکن ہونے والی یہ اہم کامیابی پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔" بیان میں کھیپ کے سائز کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

"مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ خشک مرچوں کی پہلی کھیپ چین کے لیے روانہ ہو رہی ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ہمارے برآمد کنندگان کی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ پاکستانی اور چینی کاروباری اداروں کے درمیان مزید تعاون کے امکانات کو بھی نمایاں کرتی ہے۔"

وزیر نے کہا کہ چین کو پاکستانی مصنوعات کی برآمدات "آئندہ سالوں میں 20 بلین ڈالر سے تجاوز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔"

"تاہم اس بلندپایہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ پاکستانی زرعی برآمد کنندگان اعلیٰ درجے کے معیارات کو برقرار رکھنے، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور چینی مارکیٹ کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے مارکیٹنگ کی مؤثر حکمت عملی کو نافذ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔"

انہوں نے مزید کہا اگر پاکستانی کمپنیاں چینی حکام کے طے کردہ بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے کے لیے کام کریں تو برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

گذشتہ مہینے عرب نیوز نے سندھ میں ایک اختراعی اقدام کے بارے میں اطلاع دی جہاں ایک درجن کاشتکار اپنی مرچوں کی فصلوں کو پھپھوندی کی آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید طریقوں اور مشینوں کو کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں جو ایک ایسے خطے میں ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے انتہائی خطرے سے دوچار ہے۔

وزارتِ تجارت کے بیان میں مزید کہا گیا، "وزیر نے نئی ٹیکنالوجیز جیسے ہائبرڈ بیج اور کاروباری کاشتکاری کے لیے کھلے پن کو اپنانے پر زور دیا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں