امریکہ میں بات چیت مثبت رہی، تعلقات میں مضبوطی کے خواہاں ہیں: آرمی چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان بلاک پالیٹکس پر یقین نہیں رکھتا اور تمام دوست ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔

بدھ کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کیے گئے بیان کےمطابق ’آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دورہ امریکہ میں ممتاز امریکی تھنک ٹینکس اور میڈیا کے ساتھ خصوصی ملاقاتیں کی ہیں۔‘

جنرل عاصم منیر نے ممتاز امریکی تھنک ٹینکس اور میڈیا کے ارکان سے خصوصی گفتگو میں سلامتی، بین الاقوامی دہشت گردی اور جنوبی ایشیا میں سٹریٹجک استحکام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر پاکستان کے نقطہ نظر کو اُجاگر کیا۔

آرمی چیف نے بات چیت کے دوران مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی اُمنگوں اور اقوامِ متحدہ کی کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور کوئی بھی یکطرفہ اقدام کشمیری عوام کی خواہشات کے خلاف اس تنازع کی نوعیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔‘

آرمی چیف نے غزہ میں فوری جنگ بندی کے خاتمے، انسانی ہمدردی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل کے نفاذ کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔

جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان علاقائی استحکام اور عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کئی دہائیوں سے بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے۔‘

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال خدمات اور قربانیاں دی ہیں اور پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کے فلوریڈا میں قائم ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقعے پر سینٹ کام کے کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کوریلا کے ہمراہ (آئی ایس پی آر)
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کے فلوریڈا میں قائم ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقعے پر سینٹ کام کے کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کوریلا کے ہمراہ (آئی ایس پی آر)

جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ’پاکستان جیو پولیٹیکل اور جیو اکنامک دونوں نقطہ نظر سے اہم ترین ممالک میں سے ہے۔ پاکستان وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔‘

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ’پاکستان طویل مدتی دوطرفہ تعلقات کے ذریعے امریکہ کے ساتھ مضبوط روابط کو وسیع کرنے کا خواہاں ہے۔‘

بیان کے مطابق دورہ امریکہ کے دوران سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ آرمی چیف کی بات چیت بہت مثبت رہی۔ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی آمد پر پاکستان کے سفیر نے اُن کا استقبال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں