حکومت اور بلوچ یکجہتی کونسل کے درمیان کامیاب مذاکرات، گرفتار افراد کی رہائی

بلوچ یکجہتی مارچ، اسلام آباد میں صورت حال خراب کرنے کے ثبوت موجود تھے: وفاقی وزرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

بلوچ یکجہتی کونسل اور حکومتی وزرا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد گرفتار ہونے والے افراد میں سے خواتین اور بچوں سمیت کچھ کو رہا کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب تربت سے چلنے والا بلوچ یکجہتی کونسل کا قافلہ چونگی نمبر 26 پہنچا تو انتظامیہ نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس پر مظاہرین نے وہیں دھرنا دے دیا تھا، رات گئے پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے لاٹھی چارج، آنسو گیس شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔

اس دوران پولیس نے درجنوں مرد اور خواتین مظاہرین کو گرفتار کیا جن میں بچے بھی شامل تھے۔ بعد ازاں بلوچ یکجہتی کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر آج ہی سماعت ہوئی۔

اس کے بعد وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے مظاہرین سے مذاکرات کے لیے نگراں وفاقی وزرا پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جس نے یکجہتی کونسل کے قائدین سے مذاکرات کیے اور پھر گرفتار افراد کی فوری رہائی کا حکم بھی دیا۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے حکم پر تھانوں میں بند افراد میں سے خواتین اور بچوں سمیت متعدد کو رہا کردیا گیا جس کے بعد وہ تھانوں سے دوبارہ احتجاجی کیمپ روانہ ہوئے۔

وفاقی وزراء کی نیوز کانفرنس

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ ملاقات کے بعد وفاقی وزراء نے نیوز کانفرنس کی جس میں نگران وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے بتایا کہ مظاہرین سے مذاکرات کیلئے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کمیٹی تشکیل دی تھی، حکومت کی طرف سے فواد حسن فواد نے بات چیت کی، حکومت کی جانب سے فوری طور پر مظاہرین کی رہائی کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

فواد حسن فواد نے کہا کہ مظاہرین کو دھرنے کے لیے ایچ نائن اور پھر ایف نائن پارک کی تجویز دی گئی تھی، گذشتہ 23 دنوں سے کچھ مظاہرین اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بیٹھے تھے، کچھ مقامی افراد نے چہرے ڈھانپ کر صورت حال کو خراب کرنے کی کوشش کی، بلوچستان سے آئے مظاہرین مکمل پر امن رہے۔

انہوں نے کہا کہ چند افراد نے مسائل پیدا کیے جن کی شناخت ہوگئی ہے اور ان کو رہا بھی کر دیا گیا ہے، صرف وہ لوگ تحویل میں ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی، مظاہرین کا احتجاج گزشتہ 23 دنوں سے جاری تھا، پرامن احتجاج کی سب کو اجازت ہے۔

فواد حسن فواد نے کہا کہ خفیہ معلومات تھیں کہ کسی مین شاہراہ پر لوگ اکٹھے رہے تو کوئی سانحہ ہو سکتا ہے، پتھراؤ بلوچستان کے مظاہرین نے نہیں کیا، مقامی لوگوں نے پتھراؤ کیا، 23 دنوں سے جاری پرامن احتجاج پر اسلام آباد پولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

نگران وفاقی وزیر برائے نجکاری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق رپورٹ کل عدالت پیش کی جائے گی، ایف آئی آرمیں جن لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے ان کا معاملہ عدالت میں ہے، اگر ان مظاہرین کو نہ روکا جاتا تو شائد اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود تھے، کچھ لوگ صورتحال کو کسی اور طرف لے جانا چاہتے تھے، بڑے نقصان سے بچنے کیلئے ریاست کو مجبواً کچھ اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔


لانگ مارچ کے شرکا کا موقف

لانگ مارچ میں شریک ماہ رنگ بلوچ نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہمارے تمام مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انہیں مختلف پولیس سٹیشنز میں رکھا گیا ہے۔ اس وقت وہ (پولیس) بچوں اور خواتین کو کسی اور پولیس سٹیشن لے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے مرد ساتھیوں سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ ریاست انہیں گرفتار کر لے گی۔‘

یہ مارچ بلوچستان کے علاقے تربت میں مبینہ پولیس مقابلے میں جان سے جانے والے نوجوان کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے چھ دسمبر 2023 کو تربت سے روانہ ہوا تھا۔

لانگ مارچ کے شرکا کو پہلے اسلام آباد پولیس نے اسلام آباد ٹول پلازہ پر روکا تھا۔ ماہ رنگ بلوچ نے بتایا کہ ٹول پلازہ پر روکنے کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا لیکن ابھی وہ بمشکل ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے نہیں کر پائے تھے کہ انہیں دوبارہ روک دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد میں واقع نیشنل پریس کلب جانا چاہتے ہیں لیکن پولیس نے انہیں وہاں نہیں جانے دیا، جہاں ان کے دیگر ساتھی اور صحافی انتظار کر رہے تھے۔

ماہ رنگ بلوچ نے بتایا کہ مارچ کے شرکا کو پولیس اہلکاروں نے ہرطرف سے گھیرے میں لے لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج پر امن ہے اور مارچ کے شرکا چاہتے ہیں کہ انہیں اسلام آباد پریس کلب جانے دیا جائے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے گذشتہ رات اسلام آباد میں لاپتہ افراد سے متعلق لانگ مارچ کے شرکا پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے فلسطین میں مظالم پر احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں کی جانب سے بلوچستان میں ناانصافیوں پر خاموشی پر سوال اٹھیا۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ غیر انسانی اور غیر جمہوری رویے نے ثابت کر دیا کہ موجودہ حکومت ’انڈر ٹیکر‘ حکومت ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی سی سی پی او) ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں بدھ کی رات اسلام آباد میں ہونے والے پولیس ایکشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پانی کا استعمال کسی بھی طرح مہلک نہیں ہوتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاجیوں میں خواتین اور بچے شامل نہیں تھے۔

ایکشن کی وجہ بیان کرتے ہوئے پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں اس وقت بھی بہت سے اعلیٰ سطحی غیر ملکی وفود موجود ہیں۔ ’اور کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ آپ کی اور ہماری جانیں خطرے میں ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ پولیس نے چھ گھنٹے صبر کا مظاہرہ کیا اور طاقت کے استعمال سے گریز کیا گیا۔’مظاہرین میں کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے منہ چھپا رکھے تھے اور ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں