ریمپ پر فلسطین کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی تحریک بیٹیوں سے ملی: پاکستانی ڈیزائنر

برائیڈل کوچیور ویک میں فلسطینی اسکارف کے ساتھ ماڈلز کی واک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستانی فیشن ڈیزائنر عمران راجپوت نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران فلسطینی عوام کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا خیال انہیں اپنے 'گھر' سے آیا جہاں ان کے بچے اس تنازعے پر سرگرمی سے گفتگو کرتے تھے اور انھوں نے اپنے پسندیدہ ریسٹورنٹ اور ایک بڑے عالمی فاسٹ فوڈ کا بائیکاٹ کر رکھا تھا کیونکہ اس نے اسرائیل کی حمایت کی۔

پاکستان کے ایک مشہور ترین فیشن ایونٹ سالانہ برائیڈل کوچر ویک میں جو گذشتہ ہفتے منعقد ہوا، راجپوت کے ماڈلز نے فلسطینی کیفیہ اسکارف پہن رکھے تھے جو فلسطینی مقصد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی علامت بن گئے ہیں کیونکہ اسرائیل غزہ میں اپنی فضائی اور زمینی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

مشہور پاکستانی اداکار، میزبان اور ماڈل اور اس ایونٹ کے شو اسٹاپر احسن خان نے راجپوت کے لیے ریمپ پر واک کرتے ہوئے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر تحریر تھا: "ہر بچے کے لیے۔ ہر گھر کے لیے۔ فلسطین کے لیے امن"۔

مردانہ لباس کے ایوارڈ یافتہ ڈیزائنر راجپوت نے بدھ کو ٹیلی فون پر گفتگو میں عرب نیوز کو بتایا، "ہمارا مقصد امن کا پیغام دینا تھا۔ یہ طویل عرصے سے میرے ذہن میں تھا اور میں اسے بالکل مختلف انداز میں کرنے کا سوچ رہا تھا۔"

راجپوت نے کہا کہ یہ تحریک انہیں اپنی دو بیٹیوں سے ملی جو چھ اور آٹھ سال کی ہیں لیکن غزہ جنگ اور اس کی انسانی قیمت کے بارے میں بخوبی واقف اور فعال طور پر بحث کرتی ہیں جس میں اکتوبر کے اوائل سے تقریباً 20,000 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

انہوں نے ریستوران کا نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا، "جب سے یہ واقعہ ہوا ہے، انہوں [میری بیٹیوں] نے اس جگہ کے کھانے کا بائیکاٹ کر دیا ہے جہاں وہ باقاعدگی سے جاتی تھیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ 'یہ گھر سے شروع ہوتا ہے' تو میں نے اسے اپنے بچوں سے سیکھا۔"

دوسرے ڈیزائنرز جو بوجوہ بات کرنے سے گھبراتے اور برائیڈل کوچیور ویک کو خالصتاً تجارتی نقطۂ نظر سے دیکھتے تھے، ان کے برعکس راجپوت نے کہا کہ وہ (اس مقصد کے لیے) کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے۔

انہوں نے مزید کہا، "میں اور میری ٹیم نے فیصلہ کیا کہ ہم شوکیس کے دوران غزہ کو خراج تحسین پیش کریں گے۔"

پہلے ہم نے سوچا کہ ہر ماڈل ایک پلے کارڈ اٹھائے لیکن پھر یہ بہت مشکل ہو جاتا۔ ہم نے احسن خان سے بات کی اور وہ شرکت کے لیے تیار ہو گئے۔ ہم ان کے ساتھ ساتھ شو کے ماڈلز اور منتظمین کے بھی شکر گذار ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی ہمیں اس [فلسطینیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے] معاملے میں پریشان نہیں کیا۔

گذشتہ ہفتے جب سے یہ شو منعقد ہوا، راجپوت نے کہا کہ انہیں جاپان، چین، سنگاپور، امریکہ، کینیڈا، یورپ، آسٹریلیا، شمالی امریکہ، شرقِ اوسط حتیٰ کہ روس سے سوشل میڈیا پر حمایت کے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ راجپوت کے ریمپ شو کی ویڈیوز کا بھی پاکستانی مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر اشتراک کیا گیا۔

راجپوت نے کہا، "انہوں نے ہماری کہانیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں اور ٹویٹر پر ہم سے بات چیت کی۔ یہ اب بھی جاری ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "جو لوگ بھی غزہ کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں، انہیں اس کو "مثبت انداز میں" کرنے کی ضرورت ہے:

"فلسطینی ہمارے بھائی ہیں۔ مسلمان ہونے کے ناطے اور اچھے انسان ہونے کے ناطے۔۔۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا تعلق کس مذہب سے ہے۔۔۔ میری دعا ہے کہ یہ ظلم ختم ہو اور لوگ اپنے عزیزوں کے ساتھ سکون سے رہ سکیں۔ میں جنگ کے حق میں نہیں ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں