صحت کہانی:2.7 ملین کی سیریزاے فنڈنگ جمع کرنے والی صرف خواتین پر مشتمل پاکستانی کمپنی

ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان "ہموار ورچوئل رابطہ"، ہیلتھ ٹیک اسٹارٹ اپ کی تین سالوں میں 141 ٪ نمو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستانی ہیلتھ ٹیک اسٹارٹ اپ صحت کہانی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ وہ جنوبی ایشیائی ملک کی 2.7 ملین ڈالر کی سیریز اے فنڈنگ حاصل کرنے والی ایسی اولین فرم بن گئی ہے جو صرف خواتین پر مشتمل ہے۔ فرم نے اسے ملک کے سٹارٹ اپ کے شعبے میں ایک اہم کامیابی قرار دیا۔

ڈاکٹر رضی یوسف کی سربراہی میں سنگاپور میں قائم ہیلتھ ٹیک فنڈ امانہ سرکل نے فنڈنگ کی سربراہی کی جس میں کلیدی سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ ان میں صرف خواتین سرمایہ کاروں کا ادارہ ایپک اینجلس، کراس فنڈ، یو ایس ایڈ انویسٹمنٹ پروموشن ایکٹیویٹی (آئی پی اے)، آگمینٹر، امپیکٹ انویسٹمنٹ ایکسچینج (آئی آئی ایکس) اور الٰہی گروپ آف کمپنیز شامل ہیں۔

صحت کہانی ہزارہا سماجی کاروباری اداروں میں سے ایک ہے — وہ کاروباری ادارے جو ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے خواہاں ہیں — جو ترقی پذیر ممالک میں صحت کی نگہداشت میں خلا کو ختم کرنے کے لیے جدت طرازی اختیار کر رہے ہیں۔ اس کام کی ضرورت کووڈ-19 کے بحران کے بعد زیادہ محسوس ہوئی ہے۔

یوسف نے ایک بیان میں کہا، "صحت کہانی ہیلتھ ٹیکنالوجی کی ایک ناقابلِ یقین کہانی ہے جس کی قیادت ڈاکٹر سارہ سعید خرم اور ڈاکٹر عفت ظفر آغا کر رہی ہیں۔ امانہ سرکل (سنگاپور) کو فخر ہے کہ اس نے ڈیجیٹل صحت اور احتیاطی صحت کی نگہداشت کے مستقبل میں صحت کہانی کے مجموعی وژن کو علاقائی اور عالمی سطح پر بڑھانے میں موضوع کی مہارت میں تعاون فراہم کیا۔

صحت کہانی کی ٹیکنالوجی آن ڈیمانڈ، آن ہوم یا آن پریمیس لیبارٹری خدمات اور آن لائن ادویات کی ترسیل کی پیشکش کے ساتھ 60 سیکنڈ کے اندر ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان "ہموار ورچوئل رابطے" کو یقینی بناتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم ملک گیر سطح پر مریضوں کی ایک متنوع تعداد کی ضروریات کو پورا کرتا ہے بشمول بی ٹو بی کلائنٹس، بی ٹو سی صارفین اور دیہی علاقوں کی ایسی آبادی جہاں کم خدمات دستیاب ہوں۔

صحت کہانی نے اپنی کارپوریٹ ایپلیکیشن کو ایک جامع انتظامی حل تک توسیع دی ہے جو کارپوریٹ ملازمین اور ان کے خاندانوں کو 24/7 پریشانی سے پاک اور نقد رقم کے بغیر طبی ماہرین، آن لائن ادویات کی فراہمی، اور کلیمز کے مؤثر انتظام تک رسائی فراہم کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا، "کارپوریٹس کے لیے تندرستی کا کُلّیت پر مبنی پروگرام صحت کے فروغ اور انسدادی نگہداشت پر زور دیتا ہے۔ پاکستان بھر کے 310 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں کام کرنے والی صارف ایپلی کیشن بینکنگ اور طرزِ زندگی کے نمایاں پلیٹ فارمز میں بلاتعطل ضم ہوجاتی ہے اور صحت کی سستی اور قابلِ رسائی نگہداشت کو یقینی بناتی ہے۔"

بانی خرم نے کہا کہ فنڈنگ کا ملنا "صحت کہانی کے لیے ایک اہم لمحہ" تھا۔

انہوں نے کہا، "یہ ہمیں اعلیٰ درجے کی خصوصیات تیار کرنے کے قابل بنائے گا بشمول فیصلے کے معاون نظام، صحت سے متعلق ادویات کے درستگی پر مبنی ذرائع، اور پیش گوئی کرنے والے ماڈلز تاکہ ہمارے مریضوں کو بیماری کو بہتر طور پر جان کر مکمل زندگی گذارنے میں مدد مل سکے۔

شریک بانی آغا نے کہا کہ کمپنی نے پچھلے تین سالوں میں اوسطاً سال بہ سال 141 ٪ نمو حاصل کی ہے جو اس مفروضے کو مسترد کر دیتی ہے کہ ٹیلی میڈیسن صرف کووڈ-19 وبائی مرض کے دوران ہی فائدہ مند تھی۔

آغا نے کہا، "ہم نے کووڈ کے بعد کے دور میں مشاورت کی تعداد میں مجموعی طور پر پانچ گنا اضافہ دیکھا ہے۔ اس سے ہمیں یہ اعتماد ملا کہ صحت کہانی کے آپریشنز کو دوسرے ممالک تک وسعت دیں اور اپنے اگلے اقدام کے طور پر اسے عالمی سطح پر لے جائیں۔"

2012 میں خرم کو اقوامِ متحدہ کے خواتین کو بااختیار بنانے والے ایس ڈی جی چیلنج کے پانچ فاتحین میں سے ایک قرار دیا گیا۔ یہ معاشرتی کاروباری خواتین کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا عالمی مقابلہ ہے جو اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کو آگے بڑھا رہی ہیں اور اپنے اپنے ممالک میں کمیونٹیز کو مثبت طور پر متأثر کر رہی ہیں۔

چونکہ کووڈ-19 نے 2020 کے بعد پاکستان کے صحت کے نظام کو تناؤ کا شکار کر دیا تھا تو صحت کہانی کی بانیوں نے گھر بیٹھی دسیوں ہزار خواتین ڈاکٹروں سے کام لینے کا فیصلہ کیا جن کی صلاحیتیں ایسے ملک میں ضائع ہو گئیں جہاں لاکھوں افراد کو طبی سہولیات تک رسائی نہیں ہے۔

بہت سے خاندان اپنی بیٹیوں کو کیریئر کے لیے نہیں بلکہ ان کی شادی کے امکانات کو تقویت دینے کے لیے طب کی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس رجحان کا ایک نام بھی ہے - "ڈاکٹر دلہن"۔

طبی مہارت اور صلاحیتوں کے ضیاع سے پریشان ہو کر خرم اور آغا نے اپنا ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم قائم کیا جس سے خواتین ڈاکٹروں کو ان کے گھروں سے دیہی علاقوں کے مریضوں کو ای-مشاورت فراہم کرنے کے قابل بنایا گیا۔

صحت کہانی نے کووڈ-19 کی پہلی لہر کے دوران تمام مریضوں کو مفت مشاورت فراہم کرنے کے لیے پاکستانی وفاقی حکومت سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے کووڈ کے مریضوں کا علاج کرنے والے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹوں میں ایپس بھی انسٹال کیں جس سے جونیئر ڈاکٹر کہیں اور مقیم اہم نگہداشت کے ماہرین سے فوری مشورے حاصل کرنے کے قابل ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں