روشنیاں، نغمات اورآرائش:کراچی میں ایک مسیحی خاندان کے گھر، کرسمس پر خوشی کا سماں

دنیا بھر میں لاکھوں مسیحی 25 دسمبر کو یسوع مسیح کا یومِ پیدائش مناتے ہیں جنہیں وہ انسانیت کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پروفیسر عنایت دین مہارت سے پیانو بجا رہے ہیں جبکہ ان کی بیٹی ڈاکٹر جینیفر مقبول پورے خاندان کے ہمراہ کرسمس کا ایک سریلا نغمہ گانے میں پیش پیش ہیں۔ آرائشوں سے مزین کرسمس ٹری، پورے گھر میں تیز روشنیاں اور گاتی ہوئی آوازیں یقین دلاتی ہیں کہ کراچی کے اس گھر میں کرسمس کی کافی خوشی اور جشن کا سماں ہے۔

ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں مسیحی 25 دسمبر کو یسوع مسیح کے یومِ پیدائش کے طور پر مناتے ہیں جنہیں وہ خدا کا بیٹا اور انسانیت کا نجات دہندہ مانتے ہیں۔ صدیوں سے عیسائی افراد اس تقریب کو دوستوں اور خاندانوں کے ساتھ مل کر تحائف کا تبادلہ کر کے اور شاندار کھانا پکا کر مناتے آئے ہے۔

پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی میں ڈاکٹر مقبول کا گھر بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔

ڈاکٹر مقبول نے عرب نیوز کو بتایا، "محبت اور امن اور انسانیت؛ یہ کرسمس کا پیغام ہے۔" انہوں نے اپنے اوون میں بیکنگ کے لیے ایک کیک رکھتے ہوئے مزید کہا۔ "اور ہم اسے یہاں پاکستان میں جوش و خروش سے منا رہے ہیں۔"

دوسرے کمرے میں بچے گھر کو تیز روشنیوں اور چمکدار اشیاء سے مزین کرتے ہیں جبکہ ڈاکٹر مقبول گھر کے قلب – باورچی خانے – کا رخ کرتی ہیں جہاں کرسمس کی میٹھی خوشبو ان کی منتظر ہے۔

ڈاکٹر مقبول نے وضاحت کی، "پاکستانی کرسمس سے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے کرسمس کے پروگرام اور اس کا موسم نومبر کے آخر سے شروع ہو جاتا ہے۔"

پاکستان 2.63 ملین عیسائیوں کا گھر ہے جو مسلم اکثریتی جنوبی ایشیائی ملک میں تیسری بڑی مذہبی برادری ہے۔ پاکستان کی مسیحی برادری دسمبر شروع ہونے سے پہلے ہی تہوار کی تیاریاں شروع کر دیتی ہے۔

ڈاکٹر مقبول نے کہا، ان تیاریوں میں اسنیکس بنانا، کیک بیکنگ، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے کرسمس کے تحائف خریدنا، اور چرچ کے ڈرامے، بون فائر اور کرسمس کی نغماتی تقریبات کا اہتمام کرنا شامل ہے۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، "یہ سب کرسمس کا حصہ ہے۔"

جہاں بڑے لوگ اشتہا انگیز پکوان اور میٹھے کھانے کے شوقین ہوتے ہیں، وہیں بچوں کے ذہن کسی اور چیز میں مگن رہتے ہیں۔

ڈاکٹر مقبول نے کہا، "بچے پہلے ہی سانتا کلاز کو اپنے مطلوبہ تحائف کے لیے خط لکھ چکے ہیں۔"

"اور اگر وہ اچھے بچے بن کر رہے تو سانتا کلاز تحائف لا کر کہیں گھر میں چھپا دیں گے۔ اور سراغ چھوڑ دیں گے اور پھر بچے اپنے تحائف تلاش کر لیں گے۔"

ایک بچی اور ڈاکٹر مقبول کی رشتہ دار مشال منور نے بتایا کہ وہ گھر میں کرسمس ٹری سجا رہی تھیں۔

منور نے عرب نیوز کو بتایا، "کرسمس ٹری بہت ضروری ہوتا ہے۔ ہم (اسے سجانے کے لیے) روشنیاں، گھنٹیاں، تحائف، ٹافیاں، اور ایک چھوٹا سانتا کلاز اور پھول رکھتے ہیں۔"

سگل شفیق ڈاکٹر مقبول کے بہت سے خاندانی دوستوں میں سے ایک ہیں جو کرسمس سے ایک دن پہلے تہواروں میں حصہ لیتے ہیں۔

شفیق نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم تہوار کے کپڑے پہننا پسند کرتے ہے۔ ہم عموماً کرسمس کے لیے سرخ اور نیلے اور سبز جیسے روشن اور چمکدار رنگ لینا پسند کرتے ہیں۔" اور مزید کہا، "اور ہم چوڑیاں اور بالیاں خریدنا اور مہندی لگانا پسند کرتے ہیں۔"

شفیق نے کہا کہ وہ بیوٹی پارلر جا کر اور فیشل کروا کر کرسمس کی تیاری میں وقت گذارتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "یہ ایک اچھا وقت ہے. ہمیں یہ کر کے لطف آتا ہے۔"

ڈاکٹر مقبول اور دنیا بھر کے دیگر مسیحیوں کے لیے کرسمس اپنے ساتھ دور دراز سے دوستوں اور خاندان کے افراد کو لے کر آتا ہے۔

انہوں نے کہا، "میری تمام بہنیں بہت محبت سے دبئی، آسٹریلیا [اور] کینیڈا سے آتی ہیں۔ ہمارے گھر میں ایک بڑا اجتماع ہوتا ہے۔"

کرسمس میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے تو گھر میں جوش و خروش چھایا ہوا ہے۔ اور ڈاکٹر مقبول اب تک جو کچھ کر چکی ہیں، اس سے کافی خوش ہیں۔

انہوں نے کہا، "میرے پیارے وطن، میرے پیارے ملک پاکستان سے سبھی کو کرسمس مبارک ہو۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں