فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی، پاکستان کا نئے سال کی تقاریب پر پابندی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے سے اظہار یکجہتی کے لیے حکومت پاکستان کی طرف سے نئے سال کے موقع پر کسی بھی قسم کی تقریب کے انعقاد پر مکمل پابندی کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں نگراں وزیراعظم نے پاکستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ ’غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور نئے سال کے آغاز پر سادگی کو ملحوظ خاطر رکھیں۔‘

خصوصی پیغام میں نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ’سال 2024 کی آمد ہے، میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ نئے سال کا سورج ہمارے وطن پاکستان اور پوری دنیا کے لیے خوشحالی اور امن و آشتی کا پیغام لیے طلوع ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ فلسطین میں قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، غزہ اور مغربی کنارے میں مظلوم فلسطینیوں خصوصاً معصوم بچوں کے قتل عام اور نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی پر پوری پاکستانی قوم اور امت مسلمہ شدید رنج کے عالم میں ہے۔‘

سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے بعد جوابی کارروائیوں میں اب تک 21 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ’اسرائیلی خون ریزی روکنے کے لیے پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر مظلوم فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھائی ہے اور ہمیشہ اٹھاتا رہے گا۔‘

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کی مدد کے لیے امدادی سامان کی دو کھیپ بھجوا چکا ہے جبکہ تیسری کھیپ بھی جلد ہی روانہ کی جا رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فسلطینیوں کی امداد، زخمیوں کے انخلا اور ان کے علاج کے لیے حکومتِ پاکستان مصر اور اردن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں