بھارت کے ساتھ شہریوں کی حوالگی کا معاہدہ نہیں؛ حافظ سعید حوالگی پر پاکستان کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کی جانب سے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی حوالگی کی درخواست کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے جمعے کو کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس قسم کی حوالگی کا دو طرفہ معاہدہ موجود نہیں ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے پاکستان سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ حافظ سعید کو 2008 کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے شبہے میں ٹرائل کے لیے بھارت کے حوالے کیا جائے۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ترجمان ارندم باغچی نے ایک بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم نے متعلقہ معاون دستاویزات کے ساتھ حافظ سعید کی حوالگی کی درخواست حکومت پاکستان کو بھیج دی ہے۔‘

جمعرات کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران حافظ سعید کی حوالگی کی درخواست کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا تھا کہ ’یہ سوال قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ پر مبنی ہے اور ہم قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیں گے۔‘

حافظ سعید کا سوانحی خاکہ

حافظ محمد سعید مذہبی و فلاحی جماعت الدعوہ کے بانی امیر ہیں۔ قومی سطح کے معاملات میں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور کشمیریوں پر انڈین مظالم کے خلاف پاکستان میں توانا آواز رکھتے ہیں۔

حافظ سعید کشمیر کی آزادی کے لیے چلنے والی کئی تحریکوں کی سربراہی کر رہے ہیں اور دفاع پاکستان میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ حافظ سعید قرآن کے حافظ اور علوم اسلامیہ پر دسترس رکھتے ہیں۔

لاہور کی معروف جامعہ یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں شعبہ اسلامیات کے پروفیسر اور سربراہ رہ چکے ہیں۔

وہ لاہور کے چوبرجی چوک میں واقع جامع مسجد القادسیہ میں ماہ رمضان کے دوران قرآن مجید کی تفسیر بھی بیان کرتے رہے ہیں۔

ریاض، سعودی عرب کے معروف تعلیمی ادارے کنگ سعود یونیورسٹی سے عربی ادب میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور گولڈ میڈل کے حامل ہیں۔ سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ عبدالعزیز کے براہ راست شاگرد بھی ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب سے واپسی پر 1980 کے عشرے میں دعوت دین کی بنیاد پر لاہور سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

حافظ محمد سعید پر امریکا اور بھارت 2008 کے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتا ہے، یہ 2000 کی دہائی سے پاکستان میں ایک معروف شخصیت ہیں۔

اگرچہ ان کی میڈیا میں موجودگی برسوں کے دوران کم ہوتی گئی ہے، لیکن گذشتہ دہائی میں حافظ سعید کو ان کی تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) اور اس کے فلاحی ونگ جماعت الدعوۃ کے خلاف عالمی دباؤ بڑھنے کی وجہ سے حکومت کے کریک ڈاؤن کی وجہ سے اکثر سرخیوں میں دیکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں