سیاستدانوں نے پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو مضبوط کیا: قائد تحریکِ لبیک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی نے رواں ہفتے کہا کہ جنوبی ایشیائی ملک میں سیاست دانوں نے سیاست میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو مضبوط کیا ہے۔

2016 میں شعلہ بیان مولانا خادم رضوی کی قائم کردہ ٹی ایل پی کو ایک سال بعد اس وقت اہمیت حاصل ہوئی جب اس نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کے درمیان ایک اہم چوراہے پر دھرنا دیا۔ اس احتجاج کا مقصد ان تبدیلیوں کو ختم کرنا تھا جو انتخابی امیدواروں کے اعلان کے مسودے میں اسلام میں ختم نبوت کے حوالے سے درج تھیں۔

20 دنوں تک جاری رہنے والے دھرنے نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان بین الاضلاعی سفر میں شدید خلل پیدا کیا اور یہ فوج کی طرف سے وفاقی حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ایک معاہدہ طے کروانے کے بعد ہی ختم ہوا۔ اس واقعے نے ٹی ایل پی کو پاکستان میں توہینِ مذہب کے خلاف ایک صلیبی کے طور پر آگے بڑھایا جہاں یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے اور اس پر سزائے موت دی جاتی ہے۔

سیاست دانوں اور مغرب کے خلاف خادم کی شعلہ بیان تقاریر عوام میں گونج اٹھیں اور ان کی پارٹی کی مقبولیت نے پاکستان میں 2018 کے عام انتخابات میں 2.2 ملین سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جس سے یہ ووٹوں کی تعداد کے لحاظ سے ملک کی پانچویں بڑی جماعت بن گئی۔ لیکن اتنی بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کرنے کے باوجود پارٹی صوبائی اسمبلی کی صرف تین نشستیں حاصل کر سکی۔

ناقدین کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے بڑی سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک کو توڑنے کے لیے ٹی ایل پی کو سامنے لا کھڑا کیا لیکن رضوی جنہوں نے 2020 میں اپنے والد کی وفات کے بعد پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی، اس دعوے کی تردید کرتے ہیں کہ ٹی ایل پی 2018 کے انتخابات میں نواز شریف کے زیرِ قیادت پاکستان مسلم لیگ ن کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اور اس کے بجائے مسلم لیگ (ن) پر یہ تأثر پیدا کرنے کی کوشش کا الزام لگایا کہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت اس کے ساتھ ہے۔

ٹی ایل پی سربراہ نے بدھ کو عرب نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا، "اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقت ہے، سیاست ایک حقیقت ہے، ریاست ایک حقیقت ہے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ ان کا (اسٹیبلشمنٹ) کردار ریاست پاکستان میں نہیں ہونا چاہیے تو یہ ممکن نہیں ہے۔"

"ہمارے لوگوں (سیاستدانوں) نے، سیاسی جماعتوں نے خود سیاست سے ان (اسٹیبلشمنٹ) کا تعلق مضبوط کیا ہے۔"

پاکستان میں سیاست دانوں کی تقدیر تاریخی طور پر ملک کی طاقتور فوج کے ساتھ ان کے تعلقات پر منحصر ہے جس نے ملک کی 75 سالہ تاریخ میں سے تقریباً نصف مدت تک جنوبی ایشیائی ملک پر براہِ راست حکومت کی ہے، بغاوتوں کے ذریعے یا سیاست میں ایک غیر مرئی رہنما کے طور پر۔

رضوی کو اپنے پہلے انتخابی چیلنج کا سامنا آئندہ 2024 کے عام انتخابات کی شکل میں ہے جو 8 فروری کو طے شدہ ہے جس میں ان کی پارٹی نے ملک بھر سے 1,400 سے زیادہ امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

29 سالہ نوجوان کہتے ہیں کہ وہ اس بار اپنی پارٹی کے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بارے میں پر امید ہیں۔

انہوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "میرے خیال میں ان تمام گروہوں کا وقت گذر چکا ہے جنہوں نے تقسیم کی پالیسی، نفرت کی پالیسی پر عمل کر کے اور اپنے مفادات کو فروغ دے کر پوری پاکستانی قوم کو قربان کر دیا ہے۔"

"حقائق ان کے سامنے ہیں کہ اس وقت تحریکِ لبیک (ٹی ایل پی) نظریاتی اور سیاسی دونوں لحاظ سے ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہے۔ اس لیے وہ حواس باختہ ہیں اور مضطرب انداز میں بات کر رہے ہیں۔"

غزہ پر اسرائیل کی جنگ اور پاکستان کے ردِعمل کے بارے میں سوال پر 29 سالہ نوجوان نے کہا کہ اس پر اسلام آباد کا ردِعمل "بہت کمزور" تھا اور مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی وکالت کرنے پر وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ پر تنقید کی۔

رضوی نے کہا، "[یہ ایک] بہت کمزور موقف ہے اور پاکستان کے وزیرِ اعظم نے جو کہا ہے کہ اس کے لیے دو ریاستی فارمولہ ہے، یہ قائدِ اعظم [محمد علی جناح] اور پاکستان کے بنیادی نظریات سے غداری ہے۔"

پاکستان اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا اور ایک قابلِ عمل، خود مختار اور متصل فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا ہے جس کی 1967 سے پہلے کی سرحدیں ہوں اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔ اور پاکستان اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے جامع اور دیرپا حل کا مطالبہ کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں