پاکستانی برآمد کنندگان کی بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حملوں کے بعد بیمہ واجبات میں اضافے

شپنگ کمپنیوں کا نقل و حمل کے لیے فی کنٹینر اضافی 1,500 تا 2,000 ڈالرز کا مطالبہ: برآمد کنندگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستانی برآمد کنندگان نے جمعرات کو شکایت کی کہ بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حالیہ حملوں کی وجہ سے شپنگ کمپنیوں کو انشورنس کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑا جس کے نتیجے میں ان کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے حالیہ ہفتوں میں متعدد جہازوں پر حملے کیے ہیں۔ باغیوں نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں یہودی ریاست کی فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کے لیے بحیرۂ احمر میں ان بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اسرائیل سے روابط رکھتے ہیں۔ باغیوں نے بحری جہازوں کو علاقے کی طرف جانے سے خبردار کیا ہے۔

ان حملوں نے اس اہم عالمی تجارتی راستے سے خوراک اور دیگر اشیاء کی درآمد و برآمد کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے اور بحیرۂ احمر کے راستے سامان کی بیمہ اور ترسیل کے اخراجات بڑھا دیئے ہیں۔

سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس ایم اے پی) کے قائم مقام چیئرمین قاسم یعقوب پراچہ نے عرب نیوز کو بتایا، "کچھ علاقوں کے لیے شپنگ کمپنیوں نے قیمت میں 100 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔"

"حتیٰ کہ مشرق بعید کے راستے کے نرخ بڑھا دیے گئے ہیں جس کا نہر سویز سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔"

پراچہ نے کہا ترکی کو برآمد کا معیاری نرخ 1,000 ہے البتہ شپنگ کمپنیاں اب نقل و حمل کے لیے فی کنٹینر 1,500 سے 2,000 ڈالر اضافی مانگ رہی ہیں۔

پاکستان کی نمک برآمد کرنے والی صنعت تباہی کے دہانے پر ہے، یہ کہتے ہوئے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

پراچہ نے کہا، "ہمارے نمک کے برآمد کنندگان ایک بے مثال بحران سے گزر رہے ہیں،" اور مزید کہا کہ بحیرۂ احمر میں رکاوٹوں نے جہازوں کو نمایاں طور پر اپنے راستے تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس کے نتیجے میں اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن (اے پی ایس اے) کے چیئرمین عاصم عظیم صدیقی نے تصدیق کی کہ بحیرۂ احمر کے حملوں کے بعد کچھ شپنگ کمپنیوں نے انشورنس واجبات میں اضافہ کیا ہے۔

صدیقی نے ایک شپنگ کمپنی کی طرف سے ایک انتباہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "بعض شپنگ کمپنیوں کے بیمہ کی لاگت میں سائز کے لحاظ سے فی کنٹینر $400 سے $2,000 تک اضافہ کیا گیا ہے۔"

اے پی ایس اے کے سربراہ نے نوٹ کیا کہ بیمہ کی قیمت میں اضافے سے پاکستان سے ہونے والی نقل و حمل کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گا۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) کی قائمہ کمیٹی برائے شپنگ امور کے چیئرمین عبداللہ فرخ نے کہا شپنگ واجبات میں اضافے کا اثر برآمد ہونے والی اشیاء کی مجموعی قیمت پر برائے نام ہوگا۔

فرخ نے مزید کہا، "زیادہ قیمت والی اشیاء پر اثر کم از کم ہوگا جبکہ کم قیمت والے سامان پر زیادہ اثر ہو گا۔"

پراچہ نے کہا، "مال برداری کی قیمت کو مستحکم کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے،" اور مطالبہ کیا کہ حکومت سبسڈی کی فراہمی یا متبادل راستے اختیار کرنے کے لیے شپنگ کمپنیوں کے ساتھ گفت و شنید جیسے عارضی اقدامات کر کے برآمدکنندگان کی مدد کرے۔ ان اقدامات سے فریٹ چارجز کو باقاعدہ اور مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

ایک سوال کے جواب میں پراچہ نے کہا کہ حکومتی عہدیداروں نے مسئلے کے ممکنہ حل کے لیے رابطہ کیا ہے۔

پاکستان کے نگراں وزیرِ تجارت نے تادمِ تحریر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں