ڈیرہ اسمٰعیل خان میں جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ کے قافلے پر فائرنگ

فضل الرحمان کے قافلے پر دو اطراف سے فائرنگ کی گئی تاہم تمام افراد محفوظ ہیں: ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈیرہ اسماعیل خان میں جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے قافلے پر حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

جے یو آئی کے صوبائی ترجمان مولانا جلیل خان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن ڈیرہ اسمٰعیل خان جا رہے تھے کہ الیکشن مہم کے سلسلے میں ڈی آئی خان میں سی پیک روٹ کے قریب پارک نامی علاقے سے گزر رہے تھے جہاں زیارک انٹرچینج پر قافلے پر فائرنگ کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے قافلے میں 10 سے 15 گاڑیاں شامل تھیں۔ ترجمان نے بتایا کہ فضل الرحمان کے قافلے پر دو اطراف سے فائرنگ کی گئی تاہم تمام افراد محفوظ ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے مولانا فضل الرحمٰن کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ ریاست کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل کہتے رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کو سیکیورٹی تھریٹ ہے اور ان کی حفاظت کے لیے فل پروف سکیورٹی کا انتظام کیا جائے مگر حکومت نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت صرف اطلاع دیتی ہے کہ دہشت گرد آج حملہ کرتے ہیں، دہشتگردوں کا حلیہ اور نام بھی بتاتے ہے مگر تدارک نہیں کرتی۔

عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ہم کہتے رہے کہ ان حالات میں جب امن وامان کی صورتحال یہ ہو تو کیسے الیکشن ممکن ہے لیکن نہ ججز نے نوٹس لیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن نے اور نگران حکومت میں جان ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عنقریب مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے اور اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مولانا فضل الرحمٰن کو اس بزدلانہ حملے میں محفوظ رکھا۔

حملے کے بارے میں رپورٹ طلب

دوسری جانب نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا سے رابطہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے فوری ایکشن لینے کا حکم دیتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 23 اکتوبر 2014 کو کوئٹہ میں مولانا فضل الرحمان پر حملہ کیا گیا تھا۔

مولانا فضل الرحمان حملے اُس سے قبل بھی ہوتے رہے ہیں۔ 31 مارچ 2011 کو صوابی انٹرچینج کے قریب موٹروے پر مولانا فضل الرحمان کا قافلہ پہنچنے سے چند منٹ پہلے خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

چوبیس گھنٹے کے دوران ہی دوسرا دھماکا ہوا جب خود کش حملہ آور نے ان کی گاڑی کے ساتھ خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ نگراں حکومت کے مطابق الیکشن سے قبل مولانا فضل الرحمان سمیت اہم سیاسی شخصیات کو تھریٹس ہیں اور اس حوالے سے ان کو آگاہ بھی کیا جا چکا ہے۔

دو روز قبل مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ اگر انتخابات کے دوران کسی کی شہادت ہوئی تو اس کی ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر پر عائد ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں