بلوچستان: انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے 3 جنوری کو شٹر ڈاؤن کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے دارالحکومت میں دھرنا دینے والے بلوچی انسانی حقوق کارکنوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف 3 جنوری کو شٹر ڈاؤن کرنے کی اپیل کر دی ہے۔

اپیل کرنے والے انسانی حقوق کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو اغوا کیا جاتا ہے، ان کی نسل کشی کی جاتی ہے اور انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں۔ باد رہے سینکڑوں کارکن اپنے مطالبات کے حق میں گذشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد میں دھرنا دے رہے ہیں۔

یہ احتجاجی کارکن صوبہ بلوچستان سے یہاں طویل سفر کر کے پہنچے ہیں۔ واضح رہے ان دنوں اتفاق سے پاکستان میں نگران وزیر اعظم کا تعلق بھی صوبہ بلوچستان سے ہے، چیف جسٹس آف پاکستان بھی اسی صوبے سے ہیں اور پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چئیرمین بھی صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔

پاکستان کی 2022 اپریل میں تحریک عدم اعتماد کی منظوری میں بھی بلوچ سیاستدانوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اب نئے الیکشن کے لیے بھی بلوچستان سے تعلق رکھنےوالے قائدین پر مشتمل باپ پارٹی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم بلوچستان میں احساس محرومی ہے کہ اپنی جگہ موجود ہےبلکہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اس کی وجہ عام طور پر لاپتہ افراد کے ایشو کو استعمال کیا جاتا ہے، جو پچھلے کئی برسوں سے جاری ہے۔

اسلام آباد میں دھرنا دینے والے ایک 24 سالہ نوجوان کی ماورائے ہلاکت کا الزام ملک کے حساس اداروں پر عاید کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے ماورائے قانون گرفتاریوں اور لاپتہ کیے جانے کی ایسی کئی مثالیں ہیں۔

ماہ رنگ بلوچ جو کہ اس احتجاج کی قیادت کر رہی ہیں نے پچھلے منگل کے روز حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دی تھی کہ ان کے مطالبات پورے کیے جائیں۔ اب منگل کے روز یہ ڈیڈ لائن ختم ہونے پر 3 جنوری کو شٹر ڈاؤن کی اپیل کر دی گئی ہے۔

ماہ رنگ بلوچ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کی شٹر ڈاؤن کی یہ اپیل پورے پاکستان کے لیے ہے۔ کہ سب لوگ مظلموں کی حمایت کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں