پاکستان میں 8 فروری کے انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے 'سیاسی خلا' پر کرنے کا امکان ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سیاسی تجزیہ کاروں نے اس ہفتے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں مذہبی جماعتوں کے "سیاسی خلا" پر کرنے اور 8 فروری کو ہونے والے آئندہ عام انتخابات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی توقع ہے۔

خان جنہیں پارلیمانی عدم اعتماد کے ووٹ سے اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا، کو 9 مئی 2023 کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں مختصر طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی حراست پر ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے جن میں ان کے حامیوں نے سرکاری اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے اور عوامی املاک کو نذرِ آتش کیا۔ ان حملوں سے خان کی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا جس سے کئی سینئر راہنماؤں نے پارٹی چھوڑ دی، گرفتار ہو گئے یا زیرِ زمین چلے گئے۔

سابق وزیرِ اعظم جو بدعنوانی کے ایک اور مقدمے میں سزا ہونے کے بعد اگست سے جیل میں ہیں، نے الزام لگایا کہ پاکستان کی طاقتور فوج اور نگراں حکومت طویل عرصے سے ملک پر غلبہ رکھنے والی خاندانی جماعتوں کے ساتھ ملی بھگت کر رہی ہے تاکہ ان کی پارٹی کو کچل کر انہیں عہدے کے لیے انتخاب لڑنے سے روکا جائے۔ حکومت اور فوج اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

خان کی نظربندی اور ان کی پارٹی کے ٹوٹ جانے سے جنوبی ایشیائی ملک میں سیاسی خلا پیدا ہوا ہے جسے تجزیہ کاروں کے خیال میں مذہبی جماعتیں پُر کر سکتی ہیں۔

مذہبی سیاسی جماعتوں کے ماہر صبوخ سید نے عرب نیوز کو بتایا، "پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اس الیکشن میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک میں اضافہ متوقع ہے۔ لیکن آیا ان کے ووٹوں میں اضافہ بالآخر سیٹوں کے اضافے میں بھی بدلے گا یا نہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔"

پاکستان میں کل 175 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے تقریباً 23 مذہبی جماعتیں ہیں، لیکن انتخابات میں ان کا مؤقف مرکزی دھارے کے سیاسی گروپوں کے مقابلے میں کمزور رہا ہے۔ تاریخی طور پر ان جماعتوں بالخصوص جماعتِ اسلامی اور جمعیتِ علمائے اسلام (جے یو آئی) نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب انہوں نے دوسری بڑی جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا۔

2018 کے عام انتخابات میں کم از کم 12 مذہبی سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور ملک بھر میں دیئے گئے کل 54.3 ملین ووٹوں میں سے 5.2 ملین حاصل کیے۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل جس میں جے یو آئی اور جے آئی بھی شامل ہیں، نے 25 لاکھ ووٹ حاصل کرکے قومی اسمبلی کی 12 نشستیں حاصل کیں۔

سید نے نوٹ کیا کہ ماضی کے برعکس مذہبی جماعتوں نے اس الیکشن کے لیے کوئی انتخابی اتحاد نہیں بنایا ہے جبکہ انہیں خیبر پختونخوا کے جنوبی حصے، جنوبی پنجاب اور سندھ اور بلوچستان کے صوبوں کے دیہی علاقوں سمیت بعض علاقوں میں اب بھی نمایاں حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا، "مذہبی جماعتوں نے تاریخی طور پر کبھی بھی انتخابی سیاست میں نشستوں کی تعداد کے لحاظ سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا لیکن حکومتیں بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔"

آئندہ انتخابات کے لیے مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی اور سراج الحق کی قیادت میں جماعتِ اسلامی مذہبی جماعتوں کا اتحاد بنائے بغیر مذہبی ووٹ بینک پر قبضہ کرنے کی مہم چلا رہی ہیں اگرچہ وہ مختلف علاقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کر رہی ہیں۔

ایک سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق مذہبی ووٹ بینک پورے ملک میں بکھرا ہوا ہے اس لیے مذہبی جماعتوں کے ووٹ انتخابی نشستوں میں مشکل سے ہی تبدیل ہوتے ہیں۔

ان جماعتوں نے 2002 اور 2013 کے انتخابات میں بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کرتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں کافی تعداد میں نشستیں حاصل کیں۔

خان نے کہا، "مجموعی سیاسی ماحول کی وجہ سے اس الیکشن میں ان جماعتوں کی پوزیشن نسبتاً بہتر نظر آتی ہے،" اور مزید کہا، اگر جے آئی عمران خان کی پی ٹی آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے جاتی ہے تو کراچی اور کے پی میں بہتر کارکردگی کا مطاہرہ کر سکتی ہے۔

اسی طرح انہوں نے کہا، جے یو آئی کے پی اور بلوچستان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے اگر وہ دوسری بڑی سیاسی جماعتوں مثلاً پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ انتخابی اتحاد بنا لے۔

ایک اور مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے 2018 کے انتخابات میں تقریباً 5 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے لیکن وہ کراچی سے صرف دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کر سکی۔

خان کے مطابق اس الیکشن میں ٹی ایل پی کا ووٹ بینک مزید بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متوقع سیاسی خلا کی وجہ سے اس الیکشن میں ٹی ایل پی کا ووٹ بینک تھوڑا سا بڑھ سکتا ہے لیکن ان سے یہ توقع نہیں کہ وہ دوسری بڑی جماعتوں کو کوئی جھٹکا لگا سکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں