لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے فیض آباد دھرنا کمیشن کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروس انٹیلی جنس لیفٹیننٹ جنرل [ریٹائرڈ] فیض حمید نے فیض آباد دھرنا کمیشن کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے کمیشن کی جانب سے دیئے گئے سوالات کے جواب دے دیئے جس میں کہا گیا کہ تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات حکومت کی ہدایت پر کئے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے اپنے بیان میں حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کی تردید کردی ۔

یاد رہے کہ فیض آباد دھرنا کمیشن ڈاکٹر اخترعلی شاہ کی سربراہی میں کام کررہا ہے، جس میں سابق آئی جی طاہرعالم اورخوشحال خان بھی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ 15 نومبر کو سپریم کورٹ میں فیض آباد میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے 2017 کے دھرنے سے متعلق اس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت نے کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، دو ریٹائرڈ سابق آئی جیز طاہر عالم خان اور اختر شاہ شامل ہیں۔

کمیشن کو فیض آباد دھرنا اور اس کے بعد ہونے والے واقعات کے لیے ٹی ایل پی کو فراہم کی گئی غیر قانونی مالی یا دیگر معاونت کی انکوائری کا کام سونپا گیا ہے۔

فیض آباد دھرنا کیس میں تحقیقاتی کمیشن نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی طلب کیا تھا، تاہم وہ پیش نہ ہوئے۔

15 نومبر کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ حکومت کا تشکیل کردہ انکوائری کمیشن سابق وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کو بلا کر بھی تفتیش کر سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا تھا کہ کسی کو استثنیٰ نہیں، سب کو کمیشن بلا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں