پاکستانی خارجہ پالیسی ملک کے ترقی پسند وژن کی عکاس ہونی چاہیئے: انوار الحق کاکڑ

پاکستان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اقتصادی سفارتکاری کو مرکزی دھارے میں لانے اور فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھے گا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ملک کے ایک ترقی پسند، معاشی طور پر ترقی یافتہ ریاست کے وژن کے طور پر رہنمائی کرنی چاہئے جو اپنے عوام کی سماجی و اقتصادی بہبود کو ترجیح دیتی ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مقصد پوری دنیا میں امن اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات قائم کرنا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزارت خارجہ میں چار سے چھ جنوری کے دوران جاری رہنے والی سفرا ء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں اہم دارالحکومتوں سے پاکستان کے سفیر شرکت کر رہے ہیں اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا خیر مقدم کرتے ہوئے سفراء کانفرنس میں مباحثہ کے فریم ورک اور عالمی اور علاقائی پیشرفت کے تناظر میں پاکستان کے لئے سفارتی چیلنجز اور مواقع کے بارے میں ایک مباحثہ فورم کے طور پر اس کی اہمیت کا خاکہ پیش کیا۔

اپنے کلیدی خطاب میں انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر تنازعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ہمیشہ حمایت کرتا رہے گا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مقصد پوری دنیا میں امن اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات قائم کرنا ہے، پاکستان اقتصادی سفارتکاری کو مرکزی دھارےمیں لانے اور فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھے گا۔

دو روزہ سفرا کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے: فوٹو دفتر خارجہ
دو روزہ سفرا کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے: فوٹو دفتر خارجہ

انہوں نے خارجہ پالیسی کی تشکیل اور نفاذ میں دفتر خارجہ کے اہم کردار کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنے کلیدی خطاب میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو موجودہ دور کی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے اس کے طرز عمل سے متعلق اہم ضروریات کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ملک کے ایک ترقی پسند، معاشی طور پر ترقی یافتہ ریاست کے وژن کے طور پر رہنمائی کرنی چاہئے جو اپنے عوام کی سماجی و اقتصادی بہبود کو ترجیح دیتی ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مقصد پوری دنیا میں امن اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات قائم کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے ساتھ کھڑا رہے گا، اقتصادی سفارتکاری کو مرکزی دھارے میں لانے اور فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کانفرنس کو خطے اور دنیا بھر میں ہونے والی تبدیلیوں کے پس منظر میں بروقت اور متعلقہ قرار دیا۔

انہوں نے پاکستان کی سفارتکاری پر اپنے اعتماد کا اعادہ کیا اور سفارتکاروں کی سخت مشکلات کے باوجود بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ رواں کانفرنس میں ہونے والے غور و خوض سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے عملی تجاویز ملیں گی۔

وزیراعظم نے دفتر خارجہ اور پاکستانی سفارتکاروں کے لئے پاکستان کے مفادات کے تحفظ اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں