پاکستان: سٹارٹ اپ فنڈنگ میں 2023 میں سیاسی و معاشی چیلنجز کی بنا پر 70 فیصد کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مانیٹرنگ فرمز کے مطابق پاکستانی اسٹارٹ اپس نے 2023 میں 70 ملین ڈالر سے زائد جمع کیے جو گذشتہ دو سالوں میں فنڈنگ کے مقابلے میں 70 فیصد کی نمایاں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

مقامی اسٹارٹ اپس نے 2021 میں تقریباً 360 ملین ڈالر اور اس کے بعد کے سال میں 350 ملین ڈالر حاصل کیے حالانکہ انہیں 2022 کے آخر تک فنڈنگ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان میں مختلف اسٹارٹ اپ فنڈنگ مانیٹر 2023 کے لیے مختلف اعدادوشمار رپورٹ کرتے ہیں جو 71.5 ملین سے 75.6 ملین کے درمیان ہیں۔ یہ کمپنیاں ملکی اور بین الاقوامی ہر دو سطح پر سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کو سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ قرار دیتی ہیں۔

سرمایہ کاری کی روانی سے باخبر رہنے والی ایک ویب سائٹ ڈیٹا دربار کے مطابق مقامی سٹارٹ اپ نے صرف چوتھی سہ ماہی میں 2023 کے کل کا نصف حصہ جمع کیا جس سے 15 سودوں میں 38.6 ملین ڈالر کمائے گئے۔

ایک اسٹارٹ اپ فنانشل ایڈوائزری فرم الفا بیٹا کور (اے بی سی) نے ان کمپنیوں کے لیے فنڈنگ میں نمایاں بہتری نوٹ کی جس میں سال کے شروع میں خالی دور کے بعد 2023 کے آخری تین مہینوں میں سہ ماہی بنیادوں پر 553 فیصد اضافے کا مشاہدہ کیا گیا۔

اے بی سی نے اس ہفتے اپنی رپورٹ میں کہا، "2023 میں 12 اسٹارٹ اپس نے فنڈنگ راؤنڈز کا انکشاف کیا خاص طور پر ریٹیلو نے سعودی عرب میں اپنی توسیع کے لیے 15 ملین ڈالر کا سیریز اے راؤنڈ حاصل کیا۔"

ان راؤنڈز نے مجموعی طور پر 38.7 ملین ڈالر سے زیادہ جمع کیا جو 2023 کے کل فنڈز کا 53 فیصد بنتا ہے جس سے ملک کے اسٹارٹ اپ منظر نامے کو ایک نیا اعتماد ملا۔

چوتھی سہ ماہی میں دیگر قابلِ ذکر راؤنڈز میں کریومارٹ، ایجوفی، صحت کہانی اور بلنک نے بالترتیب 6.25 ملین، 6.1 ملین، 2.7 ملین، اور 2.1 ملین ڈالر جمع کیے۔

فنڈنگ پر نظر رکھنے والی ایک اور تنظیم انویسٹ ٹو انوویٹ (آئی ٹو آئی) نے مجموعی آمد کے اعداد و شمار 74 ملین بتائے ہیں اور مزید کہا کہ یہ 38 سودوں سے جمع ہوئے۔

جمعرات کو جاری کردہ فنڈنگ کے بارے میں معلومات میں آئی ٹو آئی نے کہا، "سال 2023 سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کے لحاظ سے 2022 کے مقابلے میں سست تر تھا۔"

سال کی پہلی ششماہی معاشی غیر یقینی صورتِ حال کا شکار رہی لیکن چوتھی سہ ماہی میں 2022 کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں جمع کردہ رقم اور سودوں کی تعداد دونوں میں 150 فیصد اضافے کے ساتھ فنڈ جمع کرنے کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

پاکستانی فنڈنگ مانیٹر 2024 کے بارے میں پرامید ہیں اور مقامی اسٹارٹ اپس کے لیے مزید امید افزا سال کی توقع رکھتے ہیں۔

سرمایہ کاری کے تجزیہ کار ثروت خان نے کہا، "ہم توقع کرتے ہیں کہ فروری 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد اسٹارٹ اپ فنڈنگ کی مارکیٹ سیاسی و معاشی بہتری اور نئی حکومت کے کلیدی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نفاذ کے ساتھ رفتار حاصل کرے گی، بالخصوص بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایک نئے اور بڑے پروگرام کی مدد سے۔"

آئی ٹو آئی وینچرز کی شریک بانی اور جنرل پارٹنر کلثوم لاکھانی کا بھی ایسا ہی اندازہ تھا۔

انہوں نے کہا، "ہم نے 2024 کے لیے بہتر منظرنامے کے ساتھ سال کا مضبوط اختتام کیا۔ ہم نئے سال میں مزید کمپنیوں کو فنڈ ریزنگ سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے بھی دیکھیں گے۔"

مقامی سٹارٹ اپ مانیٹرز نے نوٹ کیا کہ پاکستان کی جاری معاشی بحالی اور انتخابات کے اعلان نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے جس سے ملک کے سٹارٹ اپ کے ماحولیاتی نظام کو فروغ ملنے کی امید ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں