سپریم کورٹ نے 62 (ون) (ایف) کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی ختم کر دی

فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سربراہ جہانگیر ترین آٹھ فروری کا الیکشن لڑ سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پیر کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی ختم کر دی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج اس حوالے سے مختصر فیصلہ سنایا، جو ٹی وی پر براہ راست دکھایا گیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے سیاست دانوں کی نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق اس کیس کا فیصلہ پانچ جنوری کو محفوظ کیا تھا۔

بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔

آج سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کو آئین سے الگ کر کے نہیں پڑھا جا سکتا، اس لیے عدالت 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی ختم کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد ضروری تھا کہ فیصلہ فوری سنایا جائے جبکہ تمام ججز، وکلا اور عدالتی معاونین کا مشکور ہوں۔

سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 1-6 کے تناسب سے فیصلہ سنایا اور بینچ کے رکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

عدالت عظمیٰ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل واپس لینے پر خارج کر دی۔

فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سربراہ جہانگیر ترین آٹھ فروری کا الیکشن لڑ سکیں گے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ برقرار رہنا چاہیے، سمیع اللہ بلوچ کیس کا تاحیات نااہلی کا فیصلہ قانونی ہے اور نااہلی تب تک برقرار رہے گی جب ڈکلیئریشن موجود رہے گی۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کا سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کو آئین سے الگ کر کے نہیں پڑھا جا سکتا، الیکشن ایکٹ کا قانون فیلڈ میں ہے اور الیکشن ایکٹ کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال ہے جسے پرکھنے کی ضرورت نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سمیع اللّٰہ بلوچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، عدالتی ڈکلیئریشن کے ذریعے 62 (ون) (ایف) کی تشریح اس کو دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے، جبکہ عدالتی ڈکلیئریشن دینے کے حوالے سے کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

فیصلے پر قانونی و سیاسی حلقوں کا ردعمل

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور سابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی معاملے میں بروقت فیصلہ کیا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کی کسی شق میں تاحیات نااہلی کا ذکر نہیں، سپریم کورٹ نے بروقت فیصلہ کیا ہے۔ نااہلی غیر منصفانہ فیصلہ تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایک دھبا صاف ہوا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ صحیح وقت پر آیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں نہیں لکھا کہ کتنی سزا ہوگی، سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے، وقت کے لحاظ سے بہت اہم تھا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد حسن منٹو کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں عدالت کا یہ فیصلہ دانشمندانہ ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میں نے ابھی تک پورا فیصلہ نہیں پڑھا ہے لیکن عوامی نمائندوں کے لیے تا حیات نا اہلی انہیں تاحیات سزا دینے کے مترادف ہے اور میں تا حیات نااہلی کے خلاف ہوں۔‘‘عابد حسن منٹو کا کہنا تھا کہ آئین میں نا اہلی کی شق کے حوالے سے ابہام تھے۔ ''میرے خیال میں وہ ابہام اب دور ہو جائیں گے۔‘‘

استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے لاہور سے ایک بیان میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاحیات نااہلی ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ آئی پی پی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ سیاسی نمائندوں کا پارلیمنٹ کے فلور تک پہنچنا ان کا بنیادی جمہوری حق ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی اس فقیدالمثال فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے۔ آئی پی پی کی جانب سے ملک میں جمہوریت کی فتح سب کو مبارک ہو، سیاسی رہنماؤں پر بطور امیدوار نااہلی کی قدغن لگانا غیر جمہوری عمل تھا۔

تحریک انصاف کی فیصلے پر تنقید

تاہم پاکستان تحریک انصاف اس فیصلے کو شدید ہدف تنقید بنا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما اور سابق وفاقی وزیر ذوالفقار بخاری نے ایک غیر ملکی دارے سے بات کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ''ہمارے خیال میں یہ فیصلہ متوقع تھا کیونکہ جس طرح سزا ہونے کے باوجود نواز شریف کا استقبال کیا گیا۔ ایئرپورٹ پر ان کا بائیو میٹرک کرایا گیا۔ انہیں ہر طرح کی سہولیات دی گئیں۔ جلدی جلدی ضمانتیں دی گئیں۔ اس کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ متوقع تھا جو صرف اور صرف نواز شریف کا راستہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔‘‘

ذوالفقار بخاری کے مطابق اب ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف الیکشن میں حصہ بھی لیں گے۔ ''اور بڑے پیمانے پہ دھاندلی کرا کے انہیں الیکشن جتوایا بھی جائے گا۔ لیکن ایسے الیکشن جیتنے کے بعد جو وزیراعظم ہو گا وہ انتہائی کمزور ہوگا کیونکہ دھاندلی کے نتیجے میں بننے والا وزیراعظم عوامی نمائندہ نہیں ہوگا۔‘‘

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ اس تاثر کو غلط قرار دیتی ہے کہ یہ فیصلہ نواز شریف کے لیے کیا گیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے ایک رہنما اور سابق گورنر خیبر پختون خواہ اقبال ظفر جھگڑا کا کہنا تھا کہ ''سب کو پتا ہے کہ ثاقب نثار کی عدالت نے کس طرح سے سیاسی بنیادوں پر فیصلے دیے اور ان کے فیصلوں کی عوام کی نظر میں کوئی وقعت نہیں تھی۔‘‘

اقبال ظفر جھگڑا کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق ہے۔ ''اور اس نے ایک تاریخی غلطی کو صحیح کر دیا ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں